رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی ’نو شدت پسند ہلاک‘


فائل

فائل

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ جمعہ کو افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو فضائیہ کی مدد سے نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم نو مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق جیٹ طیاروں کی مدد سے وادی تیراہ میں کی گئی کارروائی میں دہشت گردوں کے تین ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

جہاں یہ کارروائی کی گئی وہاں تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی رسائی نہیں اس لیے آزاد ذرائع سے جانی نقصان سے متعلق دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ وادی تیراہ میں پاکستانی فوج کافی عرصے سے کارروائی کرتی رہی ہے اور عسکری کمانڈر یہ کہہ چکے ہیں کہ اس علاقے سے دہشت گردوں کو مار بھگایا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستانی فوج نے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے مطابق اس علاقے میں بلند پہاڑوں کے علاوہ درے بھی ہیں جہاں نا صرف عسکریت پسندوں نے اپنی پناہ گاہیں قائم کر رکھی تھیں بلکہ وہ اس علاقے کے دشوار گزار راستوں کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔

عسکری حکام کے مطابق وادی راجگال سے دہشت گردوں کے خاتمے اور یہاں فوجی چوکیاں قائم کرنے سے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے میں مدد ملے گی۔

دہشت گردوں کے خلاف ’ضرب عضب‘ کے نام سے پاکستانی فوج کے جاری آپریشن میں اگرچہ حکام کے مطابق نمایاں کامیابیاں ملی ہیں، لیکن عسکری قیادت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ملک سے شدت پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔

رواں ہفتے چھ ستمبر کو پاکستان کے یوم دفاع کے موقع پر راولپنڈی میں ایک مرکزی تقریب سے خطاب میں بھی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ قوم کی اجتماعی دانش سے تیار کردہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل یعنی ’نیشنل ایکشن پلان‘ کی ہر شق پر یکساں عمل درآمد ضروری ہے۔

جمعہ کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے اُمور داخلہ بلیغ الرحمٰن نے ایک بیان میں ایوان کو بتایا کہ ’نیشنل ایکشن پلان‘ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG