رسائی کے لنکس

' اعتزاز حسن کی قربانی یاد رکھنے پر خوش ہیں'

  • شمیم شاہد

اعتزاز حسن (فائل فوٹو)

اعتزاز حسن (فائل فوٹو)

اعتزاز حسن کے بھائی مجتبیٰ علی بنگش نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ فلم اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ان کے بھائی کی قربانی کو لوگوں نے یاد رکھا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں تقریباً تین سال قبل اسکول پر ایک خودکش حملے کو ناکام بناتے ہوئے اپنی جان گنوانے والے نوجوان طالب علم اعتزاز حسن بنگش کی زندگی پر بننے والی فلم پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے اور اس اعتزاز حسن کے لواحقین کے بقول یہ ان کے بیٹے کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے جس پر وہ سب خوش ہیں۔

ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی میں جنوری 2014ء میں اعتزاز حسن نے اپنے اسکول کے قریب ایک مشکوک شخص کو دیکھا جو کہ اسکول کی طرف جا رہا تھا لیکن اس 15 سالہ نوجوان نے حملہ آور کو دبوچ کر اسکول کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔

حملہ آور نے اعتزاز حسن کے ساتھ ہاتھا پائی کے دوران اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا جس سے یہ دونوں موقع پر ہی موت کا شکار ہو گئے۔

پاکستان کے ایک فلم ساز شہزاد رفیق نے "سلیوٹ" کے نام سے اعتزاز حسن کی زندگی پر فلم بنائی جس میں طالب علم کے والد کا کردار عجب گل اور والدہ کا کردار فلمسٹار صائمہ نے ادا کیا۔

اعتزاز حسن کے بھائی مجتبیٰ علی بنگش نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ فلم اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ان کے بھائی کی قربانی کو لوگوں نے یاد رکھا ہے۔

حکومت پاکستان نے اعتزاز حسن کی بہادری پر انھیں ستارہ شجاعت سے بھی نوازا تھا جب کہ ابراہیم زئی کے سرکاری اسکول کو بھی ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

اس اسکول کے پرنسپل طاہر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے ابھی یہ فلم نہیں دیکھی لیکن فلمی دنیا کی طرف سے یہ ایک اچھا اقدام ہے۔

خودکش حملہ آور کو اسکول پر حملے سے قبل ہی دبوچ کر اعتزاز حسن نے جس بہادری و جرات کا مظاہر کیا اس پر نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس نوجوان طالب علم کو خراج عقیدت پیش کیا جا چکا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG