رسائی کے لنکس

نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر بلوچستان میں ہڑتال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بدھ کو اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی کال پر مرکزی شہر کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی جب کہ خضدار، خاران، مشکے، تربت، آواران اور دیگر اضلاع میں شٹر ڈاﺅن کے ساتھ جزوی پہیہ جام ہڑتال بھی کی گئی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی نویں برسی کے موقع پر بدھ کو کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔

جب کہ تشدد کے ایک واقعے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں چار مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔

نواب اکبر بگٹی 26 اگست 2006ء کو ہونے والی ایک فوجی کارروائی میں مارے گئے تھے اور اس کے بعد ہی کئی قوم پرست بلوچ تنظیموں کی طرف سے صوبے بھر میں شورش پسندانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا تھا۔

بدھ کو اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی کال پر مرکزی شہر کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی جب کہ خضدار، خاران، مشکے، تربت، آواران اور دیگر اضلاع میں شٹر ڈاﺅن کے ساتھ جزوی پہیہ جام ہڑتال بھی کی گئی۔

ادھر قدرتی وسائل سے مالا مال اس جنوب مغربی صوبے میں بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو کوئٹہ کے نواحی علاقے میاں غُنڈی میں سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں چار مشتبہ بلوچ عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے۔

ایف سی کے ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس معلومات ملی تھیں کہ مستونگ سے بعض مسلح افراد کوئٹہ کی طرف آرہے ہیں جو مبینہ طور پر صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی کی بڑی واردات کا منصوبہ رکھتے تھے۔

ایف سی اور حساس اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ شدت پسندوں کا میاں غُنڈی کے مقام پر فائرنگ کا تبادلہ کیا جس سے ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں چار مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

اس سے پہلے مستونگ روڈ پر ہی نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو ہلاک کر دیا۔ پولیس نے علاقے میں کارروائی کر کے دس مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

ایف سی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں اپنی جاری کارروائیوں میں 65 کلو بارود، دو روسی ساختہ بم اور ایک چھ کلو وزنی بم برامد کرنے کا بتایا ہے۔

XS
SM
MD
LG