رسائی کے لنکس

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ و گورنر نواب اکبر بگٹی کی چھٹی برسی کے موقع پر اتوار کو صوبے کی قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر ہڑتال کی گئی۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچ اکثریتی آبادی والے تمام اضلاع میں چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند اور پہیہ جام ہڑتال رہی۔

کوئٹہ کے نواحی علاقوں بروری، سر یاب اور ہزارگنجی میں کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس، فرنٹئیر کور اور بلوچستان کانسٹیبلری کے ہزاروں نوجوان کو تعینات کیا گیا۔

صوبے میں تمام سر کاری و غیر سر کاری اہم عمارت کی سیکورٹی بھی سخت انتظامات کیے گئے۔

بزرگ بلوچ رہنماء نواب اکبر بگٹی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں 26 اگست 2006ء میں بلوچستان کے ضلع کو ہلو کے علاقے تراتانی میں ایک متنازع آپریشن میں اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد بلوچستان پر شروع ہونے والے پرتشد د حملوں میں تیزی آئی۔

سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوششیں جاری ہیں جب کہ سپریم کورٹ نے بھی بلوچستان میں بدامنی کا نوٹس لے رکھا ہے۔

وفاقی حکومت نے مسائل کے حل کے لیے وزیر دفاع نوید قمر کی سربراہی میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے جس نے حالیہ ہفتوں میں وزرات خارجہ و داخلہ کے اعلیٰ عہدیداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندوں اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے ان سے معلومات حاصل کی ہیں۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان میں بدامنی کے خاتمے سے متعلق اپنی رپورٹ جلد حکومت کو پیش کرے گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG