رسائی کے لنکس

پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس


طاہر القادری(فائل فوٹو)

طاہر القادری(فائل فوٹو)

پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام سانحہ ماڈل ٹاؤن پر منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس نے اپنے پانچ نکانی مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب استعفیٰ دیں۔

اتوار کو لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام سانحہ ماڈل ٹاؤن پر منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس نے اپنے پانچ نکانی مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف استعفیٰ دیں اگر وہ مستعفی نہ ہوں تو صدر پاکستان سے کہا جائے کہ وہ اس سلسلے میں کردار ادا کریں۔

پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں اور ادارہ منہاج القرآن کی جانب سے دی گئی درخواست کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج کی جائے۔

17 جون کے انتظامی افسروں کو برطرف کیا جائے اور وفاقی ایجنسیوں کی ٹیم سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کرے اور اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی سطح کا کمیشن بنایا جائے جو وزیر اعظم سمیت ہر کسی کو طلب کر سکے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ "کوئی شخص برطرف نہیں ہوا اور کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا خود وہ مدعی بنے بیٹھے ہیں خود انویسٹیگیشن کر کے شہادتیں بنا رہے ہیں اور خود اپنا کیس لڑ رہے ہیں۔"

اس کل جماعتی کانفرنس میں پاکستان عوامی تحریک کی دعوت پر پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، متحدہ قومی موومنٹ ، مسلم لیگ قائد اعظم، آل پاکستان مسلم لیگ سمیت کئی دیگر جماعتوں کے وفود نے بھی شرکت کی جب کہ اس کانفرنس میں مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو تو دعوت نہیں دی گئی تھی۔

تاہم ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کر دیا تھا۔

خیبر پختون خواہ اسمبلی میں حسب مخالف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اس میں شرکت سے گریز کیا۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جو جماعتیں اس کانفرنس میں شریک نہیں ہیں وہ ابھی سیاسی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اس کانفرنس کا بنیادی مقصد "یہی نظر آتا ہے کہ طاہر القادری اپنی حیثیت کو زیادہ واضح انداز میں پروجیکٹ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ

"آج جو طاہر القادری والی اے پی سی ہے اس کا بنیادی مقصد تو یہی نظر آتا ہے کہ طاہرالقادری اپنی حیثیت کو زیادہ واضح انداز میں پراجیکٹ کرنا چاہتے ہیں اور کیونکہ واقعہ ایسا ہے جس میں اتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں کہ کوئی ابھی اس سے انکار نہیں کرے گا تو اس کی وجہ سے انھوں نے حمایت حاصل کی ہے یہ دیکھانے کے لیے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو پتہ لگے کہ ان کی سیاسی حمایت ہے"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "اپوزیشن دیکھنا چاہتی ہیں کہ نظام کس طرف کو جا رہا ہے۔ تو اگر یہ انھیں اندازہ ہو گیا کہ نواز شریف شہباز شریف کی گورنمنٹ جو ہے وہ اب زیادہ نہیں چل سکے گی تو میرا خیال ہے کہ وہ بھی غیر جانبداری چھوڑ کر دوسری طرف اپوزیشن کیمپ میں بڑے واضح طور پر آ جائیں گے۔

17 جون کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان خونریز تصادم کے نتیجے میں موقع پر ہی آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج پر مبنی عدالتی ٹربیونل اس واقعے کی انکوائری کے لیے قائم کیا ہوا ہے جس کی کارروائی جاری ہے اور اس دوران میں 17 جون کو وزیر قانون کے عہدے پر تعینات رانا ثنا اللہ اور وزیر اعلیٰ کے پرسنل سیکرٹری کے عہدے پر فائز ڈاکٹر توقیر کو ان کے عہدوں سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

تاہم اتوار کی کل جماعتی کانفرنس میں شامل جماعتوں کے عہدیداروں نے اقدامات کو ناکافی قرار دیا اور ہر ایک نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی پرزور مذمت کی۔

پاکستان عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس کے پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیے کے اجرا کے بعد پنجاب کے وزیر قانون رانا مشہود نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس میں ان کے بقول ان جماعتوں کی اکثریت تھی جن کو گزشتہ انتخابات میں عوام نے مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں ہر شعبے میں بہتری لانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔

"آج جب ان کو کرپش کا کوئی اسکینڈل نہیں ملا آج جب ان کو گڈ گورننس کے اندر سے کوئی چیز نکالنے کا موقع نہیں ملا آج جب ان کو لیڈر شپ کے اندر کوئی کمی نہیں ملی تو ماڈل ٹاؤن جیسا افسوناک اور اندوہناک واقعہ جس کی انکوائری ہو رہی ہے جس کے اوپر جوڈیشل کمیشن بن گیا ہے اب یہ لاشوں پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔"

دریں اثنا وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک شدگان کے ورثا کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور حکومت ملوث افراد کو سزا دے گی۔

XS
SM
MD
LG