رسائی کے لنکس

حنا ربانی کھر نے کہا کہ حکومت پارلیمان کی سفارشات کی روشنی میں امریکہ کے ساتھ القاعدہ سمیت تمام معاملات مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس ضمن میں اب تک ہونے والی بات چیت درست سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

پاکستان نے القاعدہ کے مفرور رہنما ایمن الظواہری سے متعلق تازہ ترین امریکی بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بارے میں ٹھوس شواہد کی فراہمی کا مطالبہ دہرایا ہے۔

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بھارت کے سرکاری دورے کے موقع پر پیر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اُن کا ملک سمجھتا ہے کہ القاعدہ کا سربراہ پاکستان میں ہی کہیں روپوش ہے، اور ان افراد کا تعاقب جاری رکھا جائے گا جو اس تنظیم کو چلانے اور متحرک کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنی امریکی ہم منصب ہلری کلنٹن کے بیان پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں ان کے ملک کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔

القاعدہ کا رہنما ایمن الظواہری

القاعدہ کا رہنما ایمن الظواہری

’’یقیناً ہم (امریکہ سے) ٹھوس معلومات کا تقاضا کریں گے جن سے (القاعدہ کے رہنما تک پہنچنے میں) پاکستان کو مدد ملے۔‘‘

اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کو پاک امریکہ تعلقات پر بریفنگ دینے کے بعد اُنھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ پاکستان اور امریکہ دونوں کا مشترکہ دشمن ہے جس کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے۔

’’کیا پاکستان القاعدہ کو خطے میں پناہ دینا چاہتا ہے؟ کیا القاعدہ کے ہاتھوں ہمارے بچے نہیں مر رہے؟ بلاشبہ القاعدہ ہمارا مشترکہ دشمن ہے اور ہمیں اس سے نمٹنے کے لیے شراکت داری پر مبنی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔‘‘

حنا ربانی کھر نے کہا کہ حکومت پارلیمان کی سفارشات کی روشنی میں امریکہ کے ساتھ القاعدہ سمیت تمام معاملات مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس ضمن میں اب تک ہونے والی بات چیت درست سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

لیکن وزیر خارجہ نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ مذاکرات ناکامی سے دوچار ہیں کیونکہ ان کے بقول بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اُدھر پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے متنازع بیان پرکڑی تنقید کی گئی۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے کہا امریکہ پاکستانی پارلیمان کےعمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے اس لیے اس کی تیار کردہ سفارشات کا بھی اُسے احترام کرنا ہوگا۔

سینیٹر رضا ربانی

سینیٹر رضا ربانی

’’ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت پر وار ہیں جو کسی طور قابل قبول نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک بہتر تعلقات کی طرف پیش رفت کریں، مگر ایسے غیر مناسب بیانات سے ماحول یقیناً خراب ہوتا ہے اس لیے ان سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

امریکی وزیر دفاع نے دو روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان کی مخالفت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی طرح کے حالات سے قطع نظر امریکہ بھرپور انداز میں اپنا دفاع کرے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG