رسائی کے لنکس

اُنیسویں ترمیم کی سینٹ سے منظوری

  • یاسر منصوری

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے ایوان بالا یا سینیٹ نے جمعرات کو انیسویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دی ہے ۔ سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری کے دوران 80 ارکان نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی سے متعلق اس ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالا جب کہ کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔

اُنیسویں ترمیم میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں سب سے نمایاں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی نامزد گی کے لیے چیف جسٹس کی قیادت میں قائم جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججوں کی تعداد کو بڑھا کر چار کر دیاگیا ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ سینیٹ نے آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کرکے سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ہے۔ ”یہ ملک کے لیے نئے سال کا تحفہ ہے۔“ اُنھوں نے کہا کہ انیسویں آئینی ترمیم کی دونوں ایوانوں سے منظوری نے اداروں کے مابین تصادم کے خدشات دور کر دیے ہیں۔

وزیر اعظم نے ترمیم کی تیاری میں شامل آئینی کمیٹی کے ارکان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اُن کو جنوری میں اعلیٰ ترین سول اعزاز ”ستارہ پاکستان“ سے نوازنے کا اعلان بھی کیا۔

اس سے قبل قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ بھی اس آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دی چکی ہے۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد اب ترمیم کو حتمی منظوری کے لیے ایوان صدر بھیجا جائے گا۔

رواں سال اٹھاوریں آئینی ترمیم کے تحت ججوں کی تعیناتی کے نئے طریقہ کار سمیت بعض دیگر متنازع شقوں کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا تھااور تقریبا ً چار ماہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے 21 اکتوبر کو اپنے عبوری حکم نامے میں اس میں نظرثانی کے لیے واپس پارلیمنٹ بھیج دیا تھا۔ پارلیمان کو تین ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں کی تعیناتی سے متعلق جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اُن کو دور کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG