رسائی کے لنکس

پاکستان میں امریکی نظام تعلیم اور طرز زندگی نمایاں


پاکستان میں امریکی نظام تعلیم اور طرز زندگی نمایاں

پاکستان میں امریکی نظام تعلیم اور طرز زندگی نمایاں

تاریخ گواہ ہے پاکستان میں امریکی 'فِیور' اور' فیور' دونوں عروج پر رہے ہیں۔ اور اس کی ابتداء اسی دن ہوگئی تھی جس دن پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان روسی بلاک کے بجائے امریکی بلاک میں شامل ہوئے اور انہوں نے ماسکوکے بجائے واشنگٹن کا دورہ کرنے کو ترجیح دی۔ اب عوامی سطح پر بھی کچھ یہی حال ہے ۔

شہر کے کسی بھی کونے میں چلے جائیے کہیں نہ کہیں امریکن بینک، امریکن اسکول، امریکن فرنچائز، امریکن ہوٹلز، امریکن ٹیکنالوجی اور امریکن کاریں ضرور مل جائیں گی۔ ہمارے یہاں تو اخبارات کا بھی حال یہ ہے کہ کسی دن کا اخبار بھی سپرپاور کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا۔

اسکول، کالج، یونیورسٹی، کوچنگ سینٹرز، انگریزی سیکھانے والے ادارے سب کے سب امریکن۔۔۔ یہاں فخریہ انداز میں امریکا کو ترجیح دی جاتی ہے۔ امریکی طرز تعلیم آج بھی ہر دوسرے، تیسرے شخص کے لئے باعث اطمینان ہے۔

وزیر اعظم ہوں یا صدر ان کی کوئی بھی تقریر امریکہ کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ دونوں ممالک کی دوستی کچھ ایسی ہے کہ امور خارجہ اور امور داخلہ سب میں اس دوستی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز امریکہ ذکر کرتے نہیں تھکتے، اور تو اور لیڈروں کو برا بھلا کہنے کے لئے کوئی نہ ملے تو بھی اسی کی گردن پکڑی جاتی ہے۔

وہ خواتین جنہوں نے شاید دنیا کا ایک بھی ملک نہ دیکھا ہو وہ امریکہ کے بارے میں ضرور جانتی ہیں۔ مسجدوں کی تقریروں میں امریکہ، گلی محلوں، چوراہوں، فلیٹ، مکان اور فیکٹریوں کی دیواروں پر امریکہ کے قصے ۔۔ کون کس انداز میں سوچتا ہے کی بات دیگر ہے، مگر ہے چاروں طرف امریکہ۔۔ ہی امریکہ۔۔۔!!

نوجوانوں کو دنیا میں کہیں جانے کا شوق ہو یا نہ ہو، امریکہ ان کے خوابوں کی منزل ضرور ہے۔ قرض لے کر، مکان بیچ کر، دکان ختم کرکے، کاروربار چھوڑ کر، بیوی بچوں سے دور جاکر، پیپر میرج کرکے، سود لیکر، سچ بول کر، جھوٹ بول کر۔۔ بڑھاپے میں، جوانی میں، کم عمری میں۔۔۔ ادھیڑ عمر میں۔۔۔ غرض کسی نہ کسی طرح امریکہ جانے کا جنون ہزاروں اور لاکھوں افرادپر سوار رہتاہے۔۔۔

امریکہ کے نام میں جانے کیا کشش ہے کہ لوگ وہیں کے ہورہنے کا خواب آنکھوں میں سجائے رکھتے ہیں۔ کئی افراد ایسے ہیں جن کی عمریں گزر گئیں مگر وہ امریکہ جانے کا خواب نہیں بھولے۔ ایسے لوگ فلیٹ میں رہیں یا مکان میں انہیں گھر کا کچن بھی 'امریکی' طرز کاچاہئے۔ ساحل کے قریب جائیں تو وہاں بھی "میامی بیچ" کا طرز تعمیر رکھنے کا دعویٰ کرنے والے بلڈرز مل جائیں گے۔

بچوں کو امریکی ویڈیو گیمز چاہئیں، نوجوانوں کو امریکی کالجوں میں داخلہ چاہئے، ڈاکٹروں کو امریکی ڈگریاں نمایاں کرنے کا شوق ہے، کوئی ایک دو سال امریکا رہ آیا تو اسے لب و لہجہ بھی امریکی چاہئے۔سمجھ نہیں آتا کہ یہ امریکی 'فِیور' ہے یا امریکی 'فیور'۔۔۔

XS
SM
MD
LG