رسائی کے لنکس

’جو سنا تھا پاکستان اس سے مختلف ہے‘


کیسندرا کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کا تیز ترین سفر کرنی والی پہلی شخصیت اور ایسا کرنے والی پہلی خاتون بننے کی خواہاں ہیں۔

دنیا کے 196 ممالک کا تیز ترین سفر کر کے ’گینز ورلڈ ریکارڈ‘ بنانے کی خواہمشند امریکی خاتون کیسندرا ڈی پیکول نے پاکستان کا بھی دورہ کیا۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد پہنچنے کے بعد کیسندرا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان آنے سے قبل وہ بالکل خوفزدہ نہیں تھیں تاہم کچھ خدشات تھے لیکن اُن کے بقول اُنھوں نے اس ملک کو یکسر مختلف پایا۔

کیسندرا کا کہنا تھا کہ افغانستان، شمالی کوریا اور صومالیہ کا دورہ کرنے کے بعد اُنھیں پاکستان بالکل مختلف لگا جہاں آپ ’’آزادی سے گھوم سکتے ہیں، ڈرائیو کر سکتے ہیں‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ مغرب میں پاکستان کی سلامتی کی صورت حال کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن ’’مجھے یہ بالکل مختلف لگا ۔۔۔ یہاں کے لوگ ہمدرد اور مہمان نواز ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور جتنے بھی دیگر ممالک میں وہ گئیں اُن کے لیے وہ امن کی سفیر ثابت ہوں گی اور سیاحوں سے کہیں گی کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں۔

اپنے دورہ افغانستان کے بارے میں امریکی خاتون کا کہنا تھا کہ یہ سفر اُن کے لیے بالکل مختلف تھا اور وہاں بھی اُنھوں نے ہمدرد لوگ دیکھے۔

افغانستان میں اپنے یادگار واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے امریکی خاتون نے کہا کہ اُنھوں نے ایک افغان شخص سے مصافحہ کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اُن سے کہا کہ میرا نام کیسی ہے ’’تو اس شخص نے اپنا ہاتھ اپنی جیکٹ کے اندر ڈالتے ہوئے میری طرف بڑھایا اور میں نے جیکٹ کے اوپر سے اُس کے ساتھ مصافحہ کیا۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک منفرد تجربہ تھا، جس پر ہم بہت ہنسے۔

کیسندرا کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کا تیز ترین سفر کرنی والی پہلی شخصیت اور ایسا کرنے والی پہلی خاتون بننے کی خواہاں ہیں۔

امریکی خاتون کا کہنا تھا کہ 16 ماہ قبل اُنھوں نے اس سفر کا آغاز کیا اور پاکستان 191 ملک ہے جہاں وہ پہنچی ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ایک امریکی مرد نے تین سال اور تین ماہ کے عرصے میں 196 ممالک کا دورہ کیا اور یہ ریکارڈ توڑنے کے لیے اُن کے پاس ابھی 17 ماہ سے زائد کا وقت ہے اور صرف پانچ ملک بچے ہیں جہاں انھوں نے جانا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG