رسائی کے لنکس

ڈرون حملوں کے خلاف سرگرم ’’لاپتا‘‘ کارکن کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم


لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ

کریم خان کے وکیل شہزاد اکبر نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اس واقعہ پر حکومت کے ذریعے انٹیلی ایجنسیوں کا جواب حاصل کرنے کے علاوہ بیس فروری سماعت کے موقع پر کریم خان کو پیش کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔

پاکستان کی ایک عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے خلاف سرگرم لاپتا کارکن کریم خان کو 20 فروری کو عدالت میں پیش کرے۔

کریم خان کے وکیل شہزاد اکبر نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اس واقعے پر حکومت کے ذریعے انٹیلی ایجنسیوں کا جواب حاصل کرنے کے علاوہ بیس فروری کو سماعت کے موقع پر کریم خان کو پیش کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔

وکیل شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ عدالت نے متعلقہ حکام سے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ پیشی کے موقع پر کریم خان کی گرفتاری کی وجوہات بھی بتائیں۔

ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد تعین کرے کہ مشتبہ امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مہم چلانے والا ’’لاپتا‘‘ کارکن کہاں ہے۔

تنظیم کے جاری کردہ ایک بیان میں مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کریم خان کو راولپنڈی سے تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیائی خطے کی ڈپٹی ڈائریکٹر ازیبل ایراڈون کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں تشویش ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن کریم خان کا غائب ہوجانا شاید اسے بیرون ملک امریکی ڈرون حملوں پر بیان سے روکنے کے لئے ہو‘‘۔

کریم خان کے وکیل شہزاد اکبر کے مطابق خان نے رواں ہفتے یورپ کے سفر پر جرمن، ہالینڈ اور برطانوی قانون سازوں کو ڈرون حملوں سے متعلق اپنے ذاتی تجربات اور اس کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

کریم خان کا بھائی اور ایک کم سن بیٹا دسمبر 2009ء میں مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد انہوں نے ان حملوں کے خلاف ایک مہم کا آغاز کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں امریکی اہلکاروں کو بھی نامزد کیا تھا۔

شہزاد اکبر نے وائس آف امریکہ کو کریم خان کے لاپتا ہونے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ 5 فروری کو رات گئے تقریباً 20 پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس ’’سیکورٹی اہلکار‘‘ راولپنڈی میں کریم خان کی رہائش گاہ میں دروازہ توڑ کر داخل ہوئے اور اہل خانہ کو کچھ بتائے بغیر ساتھ لے گئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عہدیدار کا کہنا تھا ’’کریم خان کی گمشدگی پاکستان میں پائے جانے والے ایک پریشان کن رجحان کو اجاگر کرتی ہے کہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس تشویش کو بھی کہ پاکستان حکومت ممکنا طور پر امریکی ڈرون حملوں کے پروگرام میں شریک ہے۔‘‘

اسلام آباد اس تاثر کو رد کر چکا ہے کہ ملک کے شمال مغربی حصے میں ہونے والے ڈرون حملوں سے متعلق واشنگٹن سے سرکاری یا فوجی سطح پر کوئی خفیہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف اور ملک میں جاری انسداد دہشت گردی کی جنگ کے لیے نقصان دہ ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق کریم خان کی گمشدگی بھی لاپتا ہو جانے والے امن کے لیے سرگرم کارکنوں اور مشتبہ دہشت گردوں کے واقعات کی ایک کڑی ہے۔

تنظیم کی طرف سے پاکستان اور امریکہ سمیت دیگر متعلقہ حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے متاثرین کی انصاف تک رسائی کو یقینی بنائیں اور اس ’’خفیہ‘‘ پروگرام سے متعلق معلومات افشا کریں۔
XS
SM
MD
LG