رسائی کے لنکس

'پاکستان اور بھارت کو بات چیت کرنا ہو گی'


پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری (فائل فوٹو)

سینیئر تجزیہ کار عابد سلہری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر یہ آبی تنازع بھی مزید بڑھتا ہے تو یہ خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہوگا اور عالمی برادری کو پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی خطرے کی انتہائی سطح تک پہنچ چکی ہے جس کے مستقبل قریب میں کم ہونے کے آثار فی الوقت دکھائی نہیں دیتے اور تناؤ کی اسی فضا میں دونوں ملکوں کے درمیان پانچ دہائیوں سے زائد پرانے سندھ طاس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں بھی شکوک شبہات جنم لے رہے ہیں۔

ستمبر میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں فوج کے ایک ہیڈکوارٹر پر مشتبہ دہشت گرد حملے کے بعد سے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی آئی تھی اور بھارتی قیادت کی طرف سے ایسے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ختم یا پھر پاکستان کے لیے پانی بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اوڑی فوجی تنصیب کے باہر موجود بھارتی فوجی اہلکار- فائل فوٹو
اوڑی فوجی تنصیب کے باہر موجود بھارتی فوجی اہلکار- فائل فوٹو

بھارت اپنے ہاں دہشت گرد واقعات کا الزام پاکستان میں موجود کالعدم شدت پسندوں تنظیموں پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام آباد دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم پاکستان ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا آ رہا ہے۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان بات چیت نہ ہونے کی وجہ سے تعلقات میں خرابی بڑھی ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی "سپتنک" سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا خیال ہے کہ دنوں ملکوں کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ مذاکرت کی میز پر بیٹھیں اور ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کریں۔

بھارت بھی بات چیت پر آمادگی کا اظہار تو کر چکا ہے لیکن اس کا موقف ہے کہ پاکستان پہلے دہشت گردی کی مبینہ حمایت بند کرے۔

گزشتہ دسمبر میں دونوں ملکوں نے دوطرفہ جامع مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ کیا تھا لیکن رواں سال جنوری میں پاکستانی سرحد کے قریب ایک بھارتی فضائی اڈے پر دہشت گرد حملے سے یہ عمل التوا کا شکار ہی رہا۔

اعزاز احمد چودھری ان دنوں روس اور چین کے ساتھ خطے کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے منعقدہ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو میں ہیں۔

بھارتی کشمیر میں دریائے چناپ پر بنایا گیا بگلیہار ڈیم- فائل فوٹو
بھارتی کشمیر میں دریائے چناپ پر بنایا گیا بگلیہار ڈیم- فائل فوٹو

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات پر ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی یا یکطرفہ طور پر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ دیگر ممالک کے لیے بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق ایسا رویہ اپنانے کے لیے ایک غلط مثال بن جائے گا۔

سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں 1960ء میں طے پایا تھا جس کے تحت تین مشرقی دریاؤں، روای، ستلج اور بیاس پر بھارت جب کہ تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہوگا۔

بھارت دریائے جہلم پر اپنے زیر انتظام کشمیر میں کشن گنگا ڈیم تعمیر کر رہا ہے جب کہ دریائے چناب پر بھی ایک پاور پراجیکٹ لگا رہا اور ان دونوں پر ہی پاکستان کو اعتراض ہے۔

سینیئر تجزیہ کار عابد سلہری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر یہ آبی تنازع بھی مزید بڑھتا ہے تو یہ خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہوگا اور عالمی برادری کو پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

"ورلڈ بینک کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور جو دیگر عالمی برادری ہے اس کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ خطے میں کشیدگی کا فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے جو کہ اگر مزید بڑھ گئی تو یقیناً اس کے اثرات نہ صرف دونوں ملکوں کے لیے بلکہ خطے کے لیے خطرناک ہوں گے اور عالمی برادری یقیناً یہ نہیں چاہے گی کہ خطے میں جہاں تین ایٹمی طاقتیں بیٹھی ہیں، چین، پاکستان اور بھارت وہاں پر ایسا کوئی فلیش پوائنٹ بنے جو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔"

بھارت اور پاکستان نے عالمی بینک سے اس مسئلے کے حل لیے غیر جانبدار مبصر اور چیئرمین ثالثی عدالت مقرر کرنے کی درخواست کی تھی لیکن ورلڈ بینک نے ان دونوں ملکوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باہمی طور پر معاہدے کے اندر رہتے ہوئے اس معاملے کو حل کریں۔

بھارت کا موقف ہے کہ وہ مغربی دریاؤں سے صرف اپنے حصے کا 20 فیصد پانی ہی استعمال میں لا رہا ہے جو کہ معاہدے کے عین مطابق ہے۔

لیکن پاکستان کا استدلال ہے کہ بھارت مبینہ طور پر دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کر کے پاکستان میں خشک سالی پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG