رسائی کے لنکس

اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا دورہ پاکستان، دونوں ممالک کا قریبی تعاون پر اتفاق

  • عشرت سلیم

علی شمخانی پاکستان کے دو روزہ دورے پر بدھ کو اسلام آباد پہنچے تھے۔ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور نئی صف بندیوں کے پیش نظر یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی سے ملاقات میں کہا کہ ایران کی چابہار‎‎ بندرگاہ اور پاکستان کی گوادر بندرگاہ اپنے ’’آپریشنل امور‘‘ میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے معاونت کریں گی۔

علی شمخانی پاکستان کے دو روزہ دورے پر بدھ کو اسلام آباد پہنچے تھے۔ اگست میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ پاکستان کے بعد یہ کسی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا دوسرا دورہ ہے۔

خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور نئی صف بندیوں کے پیش نظر یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

ایران نے حال ہی میں امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

دونوں جانب سے حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے فوراً بعد پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کی جائے گی۔

جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی امکان کے پیش نظر وزیر اعظم پاکستان اور ایرانی عہدیدار نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کی حکمت عملی کے اعتبار سے اہم بندرگاہیں چابہار اور گوادر ایک دوسرے سے مسابقت کی بجائے معاونت کریں گی۔

پاکستان گوادر کو سڑکوں، گیس اور تیل کی پائپ لائنوں اور ریلوے لائنوں کے جال کے ذریعے چین کے مشرقی صوبے سنکیانگ اور دیگر علاقائی ممالک سے منسلک کرنا چاہتا ہے۔ ادھر ایران چابہار کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملانا چاہتا ہے۔

تاہم دونوں ممالک کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل میں خطے میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سامنا ہے۔

بدھ کو علی شمخانی اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے ایک ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال اور داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ علاقے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر موجودہ اور نئے دہشت گرد خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بہتر اور قریبی مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔

ادھر علی شمخانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران داعش سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ کرے گا اور ان تمام ممالک سے تعاون کرے گا جو داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے بعد بظاہر جنوبی ایشیا میں داعش کے اثرورسوخ پر علاقائی اور عالمی طاقتوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے انسداد کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔

داعش نے ایران کے مغرب میں واقع عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر کے وہاں خود ساختہ خلافت کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں اس گروہ سے وابستہ جنگجوؤں نے وہاں بھی اپنے قدم جمانے کے لیے کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔

پاکستان میں بھی متعدد شدت پسند گروہوں کی موجودگی میں داعش کی ملک میں آمد کا خدشہ بدستور موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG