رسائی کے لنکس

لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف اس وقت فوج کے صدر دفاتر ’جنرل ہیڈکوارٹرز‘ میں انسپیکٹر جنرل ٹرینگ اینڈ اویلوایشن کے عہدے پر فائز ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کو بری فوج کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے جب کہ لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کو بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعینات کیا گیا ہے۔

ان دونوں عہدیداروں کو جمعرات کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی جائے گی۔

اس تقرری کے اعلان سے چند گھنٹوں قبل وزیر اعظم نے لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود سے اسلام آباد میں الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

بدھ کو ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے مشورے پر صدر ممنون حسین نے فوج کے ان اعلٰی عہدوں پر تقرری کے احکامات پر دستخط کیے۔

لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف اس وقت فوج کے صدر دفاتر ’جنرل ہیڈکوارٹرز‘ میں انسپیکٹر جنرل ٹرینگ اینڈ اویلوایشن کے عہدے پر فائز ہیں۔

بری فوج کے موجودہ سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت جمعرات (28 نومبر) کی نصف شب ختم ہو رہی ہے۔

آئین کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا کلی اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے۔


سبکدوش ہونے جا رہے جنرل کیانی کے اعزاز میں بدھ کی شب الوداعی عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

جنرل کیانی کو نومبر 2007ء میں بری فوج کی کمان سونپی گئی تھی اور 2010ء میں اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اُن کی مدت ملازمت میں نومبر 2013ء تک توسیع کر دی تھی۔

جنرل راحیل شریف 16 جون 1956ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے، اُن کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف 1971ء میں بھارت سے جنگ کے دوران مارے گئے تھے، میجر شبیر کو ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا جا چکا ہے۔

راحیل شریف 1976ء میں فوج میں شامل ہوئے تھے، وہ کور کمانڈر گوجرانوالہ اور فوجی افسران کی تربیت گاہ ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔

بری فوج کے مقرر ہونے والے نئے سربراہ راحیل شریف فوج کے سینیئر افسران میں تیسرے نمبر پر تھے۔ موجودہ لفٹیننٹ جنرلز میں سے سب سے سینیئر جنرل ہارون اسلم تھے جب کہ دوسرے نمبر پر جنرل راشد محمود تھے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنماء سینیٹر جعفر اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ نئے آرمی چیف کو بہت سے چیلنج درپیش ہوں گے۔

’’مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگی ہے اور پھر ملک کے اندرونی حالات آپ دیکھ رہے ہیں۔۔۔ خاص طور پر قبائلی علاقوں کے علاوہ کوئٹہ اور کراچی کے جو حالات ہیں یہ نئے آرمی چیف کے لیے بہت بڑے چیلنج ہیں۔‘‘

دفاعی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ فوج کے نئے سربراہ کے لیے بھی سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہی ہوگا۔

’’جو دہشت گردی پاکستان میں پھیل رہی ہے اور شدت پسند گروہ شہروں میں مضبوط ہوئے ہیں، اس صورت حال کا کیسے مقابلہ کرنا ہے ... کس حد تک پاکستان 2014ء کے اختتام تک قابئلی علاقوں اور پاک افغان سرحد پر اپنی پوزیشن مستحکم کرے گا۔‘‘
XS
SM
MD
LG