رسائی کے لنکس

پاکستان:انسداد دہشت گردی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں


پارٹی کی نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی بشرٰی گوہر

پارٹی کی نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی بشرٰی گوہر

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما نے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین سے اپیل کی کہ وہ سیاسی مصلحتوں اور فوائد سے بالاتر ہوکر شدت پسندوں کے خلاف واضح موقف اختیار کریں اور اس سے متعلق موجود ابہام کو ترک کر دیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رواں ماہ کے اواخر میں اسلام آباد میں ایک کل جماعتی کانفرنس منعقد کر رہی ہے۔

پارٹی کی نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی بشرٰی گوہر نے اتوار کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر اور متفقہ لائحہ عمل کی تیاری پر ان کی جماعت کی جانب سے مختلف سیاسی رہنماؤں سے رابطے ہو رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کا تحریک منہاج القران کے حالیہ لانگ مارچ اور اس کے تناظر میں سیاسی جماعتوں کا جمہوری نظام پر اعتماد اور اسے جاری رکھنے کے عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بقا کے لیے بھی تمام سیاسی گروہوں کو دہشت گردوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف یک آواز ہو کر اٹھنا ہوگا۔

’’وہ ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں۔ ہمارے سکول تباہ کر رہے ہیں۔ سیاسی قائدین کا کام عوامی رائے بنانا ہوتا ہے اور اگر اس وقت ان قائدین نے ایسا نہ کیا تو یہ عوام کے لیے شدید دھچکا ہوگا۔ اب تو عوام بھی شدت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی چاہتے ہیں‘‘۔

اے این پی کی رہنما نے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین سے اپیل کی کہ وہ سیاسی مصلحتوں اور فوائد سے بالاتر ہوکر شدت پسندوں کے خلاف واضح موقف اختیار کریں اور اس سے متعلق موجود ابہام کو ترک کر دیں۔

تاہم جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے ملک کے جنوب مغرب میں شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی حالیہ فوجی کارروائیوں پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ عام عوام ان کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

2008ء کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل ہوئے اور تین سال تک حکمران اتحاد کا حصہ رہے۔

جمیعت کے رہنماء نے اے این پی کی طرف سے منعقد کی جانے والی کل جماعتی کانفرنس پر بھی شکوک کا اظہار کیا اور نیشنل پارٹی کو خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

’’اگر اے این پی اپنے گناہوں کو صاف کرنے یا اس میں دوسروں کو شریک کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو ہم اس (کانفرنس) کا حصہ بنیں گے۔‘‘

عوامی نیشنل پارٹی وفاق میں مخلوط حکومت کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خواہ میں حکمران اتحاد کی قیادت کررہی ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔ مگر اب بھی شدت پسندوں کے خلاف جنگ سے متعلق ملک میں سیاسی اتفاق رائے نہیں موجود۔

بعض سیاسی مبصرین کے مطابق اے این پی بھی شاید اس کوشش میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکے کیونکہ کئی سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات میں دائیں بازوں اور قدامت پسند ووٹروں کی وجہ سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کوئی واضح موقف لینے سے گریز کریں۔
XS
SM
MD
LG