رسائی کے لنکس

انسداد منشیات کے لیے ملکوں میں تعاون ضروری: پاکستان


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام سے قبضے میں لی گئی کشتی کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا لیکن ابھی تک اس بارے کسی بھی طرح کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

پاکستان نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ ایک سنگین جرم ہے اور اس کے انسداد کے لیے ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ان اطلاعات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی جن میں بھارتی حکام نے منشیات سے بھری ایک مبینہ پاکستانی کشتی کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں سے آگاہ ہے اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے حکام نے بھارتی عہدیداروں سے اس ضمن میں معلومات کے تبادلے کا بھی کہا ہے۔

"ان سے کہا ہے کہ کشتی کی تفصیلات فراہم کی جائیں جیسے کہ اس کی ملکیت سے متعلق شواہد، جس سے اندازہ لگایا جائے کہ یہ کشتی کہاں سے چلی۔ لیکن ابھی تک کسی بھی طرح کی معلومات کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔"

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ ایک سنگین جرم ہے اور اس کے انسداد کے لیے ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔

"اصولی طور پر اگر پاکستان کی طرف سے کوئی کشتی بھارتی پانیوں میں منشیات لے کر جا رہی تھی جسے بھارت نے قبضے میں لیا تو اسے چاہیے تھا کہ وہ سب سے پہلے پاکستان کو مطلع کرے کیونکہ جیسا کہ میں کہا کہ اس کے لیے ملکوں میں تعاون کی ضرورت ہے۔"

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے طور پر میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو اس کی چھان بین کرنے کا کہہ دیا ہے۔

رواں ہفتے بھارتی ذرائع ابلاغ میں حکام سے منسوب یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ منشیات سے بھری ایک مبینہ پاکستانی کشتی کو روک کر اس سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

بھارتی حکام کے بقول یہ کشتی بحیرہ عرب میں بظاہر بھارتی ریاست گجرات کی طرف جا رہی تھی۔

جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا شمار خطے کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جو یورپی ملکوں کو منشیات کی منتقلی کے لیے ایک اہم گزرگاہ تصور کیے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں کاشت ہونے والی پوست کا 90 فیصد افغانستان میں پیدا ہوتا ہے جسے بیرونی دنیا میں اسمگل کرنے کے لیے عموماً پاکستان اور ایران کے راستے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پاکستان نے اپنے ہاں منشیات کی اسمگنگ کی روک تھام کے لیے حالیہ برسوں میں کئی اقدامات کیے ہیں جس کی بدولت حکام کے بقول اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث بڑے گروہوں کو پکڑ کر ان کے قبضے سے قابل ذکر مقدار میں منشیات برآمد کر کے انھیں ضائع کیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں انسداد منشیات کے ادارے کے سربراہ میجر جنرل خاور حنیف نے رواں ماہ ہی وفاقی وزیرداخلہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا تھا کہ انسداد منشیات کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کی گئی ہے جس کے تحت ہوائی اڈوں، سمندری اور زمینی راستوں سمیت تمام داخلی مقامات کی موثر نگرانی کی جاسکے گی۔

ان کے بقول گزشتہ سال ان کے ادارے نے 13 بین الاقوامی منشیات فروش تنظیموں کے خلاف کارروائی کر کے 260 ٹن ہیروئن، حشیش، افیون، کوکین اور دیگر منشیات پکڑیں۔

XS
SM
MD
LG