رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں انسداد پولیو مہم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انسداد پولیو کی حالیہ مہم کے لیے تقریباً سات ہزار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کے لیے صوبے میں 54 لاکھ اور قبائلی علاقوں میں سات لاکھ بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں رواں سال کی آخری سہ روزہ انسداد پولیو مہم جمعرات کو شروع ہوئی جس میں پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً 61 لاکھ بچوں کو اس موذی وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دی جائے گی۔

سال 2015ء پاکستان میں پولیس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے خاصا حوصلہ افزا رہا ہے اور گزشتہ برس کی نسبت رپورٹ ہونے والے کیسوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

2014ء میں پورے ملک میں پولیو سے متاثرہ 306 کیسز جب کہ خیبر پختونخواہ سے 47 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ لیکن اس برس پاکستان میں 49 میں پولیس کیسسز میں سے خیبر پختونخواہ میں 15 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

انسداد پولیو کی حالیہ مہم کے لیے تقریباً سات ہزار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کے لیے صوبے میں 54 لاکھ اور قبائلی علاقوں میں سات لاکھ بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں اس مہم سے وابستہ لوگوں پر شدت پسندوں کے حملوں میں نہ صرف 70 کے لگ بھگ افراد مارے گئے بلکہ اس سے ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوشش کو بھی خاصا نقصان پہنچا۔

30 نومبر کو صوابی میں انسداد پولیو کے ضلعی رابطہ کار ڈاکٹر یعقوب کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد علاقے میں جاری انسداد پولیو مہم معطل کر دی گئی تھی۔

قبل ازیں قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی وزیرستان میں سلامتی کے خدشات کے باعث بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانے والے رضا کاروں کی رسائی نہیں تھی جس سے اس موذی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بہت دشواری کا سامنا رہا۔

لیکن گزشتہ سال جون میں شدت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے بعد یہاں کے نوے فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے پاک کر دیا گیا اور بہت سے علاقوں میں لوگوں کی واپسی کا سلسلہ بھی مرحلہ وار شروع کر دیا گیا۔

یہاں سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے جب کہ خیبر پختوںخواہ میں ان کے عارضی قیام کے دوران بھی ان کے لیے مہم جاری رکھی گئی۔

لیکن اس حوصلہ افزا پیش رفت کے ساتھ ساتھ اب بھی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کو ماہرین باعث تشویش قرار دیتے ہیں۔ رواں سال کراچی میں اب تک 10 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے سات کا تعلق پختون آبادی والے علاقوں سے بتایا گیا ہے اور یہ لوگ اپنے بچوں کے ہمراہ خیبر پختوںخواہ اور قبائلی ایجنسیوں میں اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے رہے ہیں جس سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ ملک ہیں جہاں انسانی جسم کو مفلوج دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

پاکستان میں حکومتی عہدیدار یہ عزم ظاہر کر چکے ہیں کہ آئندہ برس کے اختتام تک ملک سے پولیو وائرس کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور اس کے لیے مذہبی و سیاسی اکابرین سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG