رسائی کے لنکس

انسداد پولیو مہم کے دوران سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے جب کہ پورے پشاور ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر کے موٹر سائیکل کی سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں اتوار کو انسداد پولیو کی ایک روزہ مہم شروع کی گئی ہے۔

مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لیے چار ہزار سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

گزشتہ سال عالمی ادارہ صحت نے پشاور کو پولیو وائرس کا گڑھ قرار دیا تھا جب کہ 2014ء میں ملک بھر سے رپورٹ ہونے والے 297 پولیو کیسز میں سے 66 کا تعلق بھی اسی صوبے سے تھا۔

دیگر رپورٹ ہونے والے کیسز میں بھی اکثریت کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے تھا۔

اتوار کو منعقد ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے جب کہ پورے پشاور ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر کے موٹرسائیکل کی سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

گزشتہ دو برسوں کے دروان پاکستان میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر انتہا پسندوں کی طرف سے ہلاکت خیز حملے کیے جاتے رہے ہیں جس میں درجنوں رضا کاروں سمیت ان کی حفاظت پر مامور متعدد سکیورٹی اہلکار اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے متعدد بار یہ مہم ملتوی ہوئی جو ملک میں پولیو کے خاتمے کے ہدف کو حاصل نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو اپاہج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

دیگر دو ملکوں میں افغانستان اور نائیجیریا شامل ہیں لیکن وہاں پولیو کے پھیلاؤ کی صورتحال پاکستان کی نسبت خاصی حد تک قابو میں ہے۔

طبی ماہرین یہ کہہ چکے ہیں بچوں کو اس وائرس سے بچاؤ کے قطرے تواتر کے ساتھ پلا کر ہی پولیو پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG