رسائی کے لنکس

پولیو کے خاتمے کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے: وزیراعظم


وزیر مملکت برائے قومی صحت سروسز سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ اس سال پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں میں سے اکثریت کا تعلق اُن علاقوں سے ہے جہاں گزشتہ دو سال سے سلامتی کے خدشات کے باعث اس وائرس کے خلاف مہم چلائی ہی نہیں جا سکی۔

پاکستان کے وزیراعظم نے ملک سے پولیو وائرس کے خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

انسداد پولیو کے عالمی دن کے موقع پر جمعہ کو وزیراعظم نواز شریف نے انسانی جسم کو اپاہج کرنے دینے والے اس وائرس سے متاثرہ بچوں اور اُن کے والدین سے ملاقات کی۔

انھوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر انسداد پولیو کی حکومتی کوششوں کا حصہ بنیں۔

پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو سے متاثرہ 208 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 93 تھی۔

وزیر مملکت برائے قومی صحت سروسز سائرہ افضل تارڑ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں اس سال پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں میں سے اکثریت کا تعلق اُن علاقوں سے ہے جہاں گزشتہ دو سال سے سلامتی کے خدشات کے باعث اس وائرس کے خلاف مہم چلائی ہی نہیں جا سکی۔

’’بین الاقوامی برداری اس بات کو سمجھے کہ، پاکستان کا کسی دوسرے ملک کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا، نائیجریا یا دیگر ممالک میں جو ریاست مخالف عناصر ہیں، بوکو حرام یا دیگر، وہ حکومت کے خلاف ہیں پولیو کے خلاف نہیں ہیں۔۔۔ لیکن ہماری صورت حال بالکل مختلف ہے۔‘‘

پاکستان میں پولیو کیسز میں تشویشناک حد تک اضافے کی وجوہات میں اہم سلامتی کے خدشات کے باعث بچوں کی ایک قابل ذکر تعداد تک انسداد پولیو ٹیموں کی عدم رسائی اور ملک میں بار بار اس مہم میں تعطل بتائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ والدین کی طرف سے بچوں کو ویکسین پلوانے سے انکار بھی اس تعداد میں اضافے کا ایک سبب ہے۔

ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاوہ خیبر ایجنسی کے بعض مقامات میں گزشتہ دو برسوں میں تقریباً اڑھائی لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلوائے جا سکے تھے جب کہ دیگر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی طرف سے اس مہم سے متعلق پروپیگنڈے اور سلامتی کے خدشات کے باعث انسداد پولیو مہم بھرپور طریقے سے نہیں چلائی جاسکی۔

پاکستان میں پولیو سے متاثرہ زیادہ تر کیسز کا تعلق بھی قبائلی علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔

دسمبر 2012ء سے ملک کے مختلف حصوں میں انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر جان لیوا حملے بھی ہوتے آرہے ہیں جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانے کی مہم میں تسلسل ہی سے انسانی جسم کو اپاہج کردینے والی اس موذی بیماری کے وائرس پر قابو پانے کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔

پاکستان کے علاوہ افغانستان اور نائیجیریا میں بھی پولیو وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا ہے لیکن ان ملکوں میں اس سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے نئے کیسز کی تعداد پاکستان کی نسبت بہت ہی کم ہے۔

XS
SM
MD
LG