رسائی کے لنکس

پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہر سال ایک لاکھ ہلاکتیں

  • حسن سید

پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہر سال ایک لاکھ ہلاکتیں

تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر وفاقی حکومت نے اس خطرناک رجحان کی حوصلہ شکنی کے لئے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے جس میں یکم اکتوبر2011 سے ڈبیا کے بغیر کھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی اور سگریٹ کی ڈبیوں پر موجودہ انتباہی تصویرجلد تبدیل کر کے کینسرسے متاثرہ فرد کی مزید خوفناک تصویرعیاں کرنا شامل ہے۔

منگل کواسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کے وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ کھلے سگرٹوں کی فروخت پر پابندی کے بعد کم از کم بیس سگریٹ کا پیکٹ خریدنا کم آمدن والے افراد اور خاص طور پر بچوں کے لئے مشکل ہو گا اور یوں سگریٹ پینے کے رجحان میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ’’ شیشے‘‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان اورگٹکے کی فروخت کی روک تھام کا بھی عزم رکھتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وزارت صحت کے انسداد تمباکو نوشی سیل کے عہدیدار ڈاکٹر منحاج السراج نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد بچوں یا نوجوانوں کی ہے اور ان کے بقول ’’جب کھلے سگریٹ دستیاب نہیں ہوں گے تو یہ اپنے جیب خرچ سے با آسانی سگریٹ نہیں خرید سکیں گے، یوں نئے سگریٹ نوش پیدا ہی نہیں ہوں گے اور نئی نسل کی ایک بڑی تعداد کو ہم اس عادت سے دور رکھھ پایئں گے‘‘۔

سرکاری جائزے کے مطابق سگریٹ نوشی سے لاحق ہونے والے امراض بشمول پھیپھڑوں وگلے کے سرطان ، سانس اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال ملک میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ روزانہ پانچ ہزار افراد انہی بیماریوں کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہر سال ایک لاکھ ہلاکتیں

پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہر سال ایک لاکھ ہلاکتیں

سگریٹ پینا نا صرف عادی افراد بلکہ ان کی صحبت میں رہنے والوں خاص طور پر بچوں کی صحت پر بھی انتہائی مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں چھ لاکھ افراد صرف تمباکو نوشی کرنے والوں کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا کہ کہ سگریٹ ترک کرنا اگرچہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ اس میں موجود نیکوٹین کا نشہ ہیروئین سے بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن معالج کی ہدایات اور ’’ نیکوٹین ریپلیسمنٹ‘‘ ادویات کی مدد سے ایسا کرنا نا ممکن نہیں۔

ان کا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایک شخص سگریٹ پینا چھوڑ دے تو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر اس کے پھیپھٹروں کو فوائد پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں جبکہ پینتیس سال سے کم عمر تک اگرکوئی یہ نشہ چھوڑ دے تو اس کی اوسط عمر اس شخص کے برابر ہی ہو سکتی ہے جس نے کبھی سگریٹ نہ پی ہو۔

XS
SM
MD
LG