رسائی کے لنکس

بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے انسداد میں اہم پاکستانی پیش رفت


نئی قانونی ترامیم کا مقصد اندرون اور بیرون ملک دہشت گردی کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد کے ذرائع روکنا اور اس میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا ہے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ غیر ملکی حکومتوں کی درخواست پر پاکستان میں دہشت گردوں یا مشتبہ شدت پسندوں کے اثاثے منجمد یا قبضے میں لینے کا فیصلہ اسلام آباد کی اس پالیسی کا حصہ ہے کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترامیم کا مقصد اندرون اور بیرون ملک دہشت گردی کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد کے ذرائع روکنا اور اس میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا ہے۔

’’آپ اسے بین الاقوامی سطح پر مدد فراہم کرنے کا نظام کہہ سکتے ہیں جس کے تحت دنیا کے اور ملکوں کو بھی جو سمجھتے ہیں کہ یہاں کوئی غلط ہونے والا ہے ان کی بات مانیں۔‘‘

بدھ کی شام قومی اسمبلی نے انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترامیم کی منظوری دی جس کے تحت وفاق یا صوبائی حکومتیں کسی دہشت گرد یا مشتبہ شدت پسند کے اثاثے منجمد یا قبضے میں لے سکتی ہیں۔ ترامیم کے مطابق حکومتوں کی طرف سے ایک سینئیر اہلکار متعین کیا جائے گا جو کہ اس حوالے سے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔

قانون میں تبدیلی کے بعد اب حکومت یہ کارروائی کسی بھی غیر ملکی حکومت کی درخواست پر بھی کر سکتی ہے۔

ترامیم میں کہا گیا ہے کہ اثاثوں کے منجمد یا قبضے سے انکار کی صورت میں متعلقہ شخص کو پانچ سال تک قید کی سزا اور پانچ لاکھ کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گرد یا مشتبہ شخص کے اثاثے منجمد یا قبضے میں لینے کے 48 گھنٹوں کے بعد متعلقہ شخص کو نوٹس اور اخباری اشتہارات کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔

نئی منظور شدہ ترامیم کے مطابق حکومت یا حکومت کے متعین کیے گئے اہلکار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوسکے گی اگر اثاثوں کو منجمد یا قبضے میں لینے کا عمل نیک نیتی سے کیا گیا ہو۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کے مطابق ملک کو درپیش دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔

’’دہشت گرد اگر گرفتار بھی ہوں تو لوگ گواہی کے لیے سامنے نہیں آتے کیونکہ شدت پسند مالی اور تنظیمی طور پر مضبوط اور منظم ہیں اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماضی میں ججوں اور استغاثہ کے وکلاء پر بھی حملے ہوئے۔ اس لیے ہمیں قوانین کو سخت کرنا ہوگا۔‘‘

پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کا سامنا ہے جس میں اب تک ایک محتاط اعداد و شمار کے مطابق 40 ہزار شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

سینئیر وکیل طارق اسد نے سپریم کورٹ میں چند مشتبہ شدت پسندوں کی حراست کے خلاف ایک اپیل دائر کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی انسداد دہشت گردی کے قانون میں یہ نئی ترامیم آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔

’’کسی کے خلاف شہادت نہیں ہے اور شک کی بنیاد پر کسی کو زیر حراست رکھنا یا غائب کر دینا خلاف قانون ہے۔ پہلے تو لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ تھا اب ان کے اثاثوں پر ہوگا۔ اس سے بہت زیادتی ہوگی اور یہ خلاف آئین ہے۔‘‘

رواں ہفتے صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان سے منظور شدہ ایک انوسٹیگیشن فار فیئر ٹرائل نامی قانون کے مسودے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت نہ صرف انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشتبہ افراد کے ٹیلی فون، ای میلز اور ایس ایم ایس کی نگرانی کر سکتے ہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات کو بطور ثبوت عدالت میں تسلیم بھی کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG