رسائی کے لنکس

انسداد دہشت گردی کے قانون کو موثر بنانے پر زور

  • ج

انسداد دہشت گردی کے قانون کو موثر بنانے پر زور

انسداد دہشت گردی کے قانون کو موثر بنانے پر زور

پاکستان میں ُٓمبینہ دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے کے لیے قوانین کو موثر جبکہ جج اور گواہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زوردیا جا رہا ہے۔

اراکین پارلیمان ہو ں یا پھر آئینی ماہرین سبھی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ زیر حراست مبینہ دہشت گردوں پر چلائے جانے والے مقدمات میں جرم ثابت ہونے کی خاصی کم شرح کی بڑی وجہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں پائی جانے والی کمزوریاں ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی کے مقدموں میں ملوث ملزمان کو موجودہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت قرار واقعی سزا دلوانا ایک مشکل عمل ہے کیوں کہ عدالت گواہوں اور ٹھوس شواہد کا تقاضا کرتی ہے جن کا ایسے مقدمات میں عموماََ فقدان ہوتا ہے۔

مخلوط حکومت میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر زاہد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ”ابھی اس وقت عدالت میں آپ جتنے بھی زیادہ سے زیادہ دہشت گردوں کو پیش کردیں، گواہی کوئی ہوتی نہیں اور آپ کا جو کمزور پوائنٹ ہوتا ہے اُسے رہائی مل جاتی ہے وہ عدالت سے چھوٹ جاتا ہے ۔“

حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان نے اعتراف کیا کہ شدت پسندوں کی ایک نمایاں تعداد عدالت سے رہائی حاصل کرنے کے بعد دوبارہ تشدد کی کارروائیوں میں شامل ہو جاتی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ اس مسلئے سے نمٹنے کے لیے موثر قانون متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

”ایسا قانون ہونا چاہیئے تاکہ ان کو تو سزائیں ملنی چاہیئں۔ اگر کوئی گواہی دیتا ہے تواس کو قتل کر دیا جاتا ہے ، اگر کوئی اُس کے خلاف کوئی جج فیصلہ کرتا ہے تو اس پر بھی خودکش حملے ہو رہے ہیں ۔ توان کے لیے کوئی طریقہ ڈھونڈ نا ہوگا“۔

انسداد دہشت گردی کے قانون میں تبدیلی کی ضرورت پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ ”میرا خیال ہے اس کے اوپر سب فریقین کو اکٹھا کر کے ایک ایسا قانون مرتب کرنا چاہیے جس میں گواہوں، ججوں اور استغاثہ کو سکیورٹی فراہم ہو اور ساتھ ہی ساتھ (ایسے ملزمان کو حراست میں رکھنے) کے لیے جیلوں کی صحیح طرز پر تعمیر اور ان میں سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے“۔

حالیہ برسوں کے دوران ملک کے شمال مغربی علاقوں خصوصاً وادی سوات اور افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی پٹی میں فوجی آپریشن کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں مشتبہ جنگجوؤں کو حراست میں لیا گیا ہے اور اُن پر مقدمات بھی چلائے جارہے ہیں لیکن تاحال ان میں سے کوئی بھی مقدمہ منطقی انجام تک نہیں پہنچا ہے۔

XS
SM
MD
LG