رسائی کے لنکس

پاکستان میں نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مضر صحت عادت کی حوصلہ شکنی کے لیے حکومت قوانین پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

عالمی ادارہِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں امراض قلب اور سانس کی تکالیف جیسی غیر متدی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات میں سے 68 فیصد کی وجہ تمباکو کا استعمال ہے جب کہ پاکستان میں سرکاری جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بیماریاں ملک میں سالانہ ایک لاکھ افراد کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہیں۔

ہر سال 31 مئی تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں دیگر ممالک کی طرح جمعرات کو پاکستان میں بھی مختلف تقاریب منعقد کی گئیں جن میں مقررین نے تمباکو نوشی کے نقصانات اور اس کی حوصلہ شکنی کے لیے رائج قوانین پر موثر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

اسلام آباد میں صارفین کے حقوق سے متعلق غیر سرکاری تنظیم ’دی نیٹ ورک‘ نے اس موقع کی مناسبت سے اپنی جائرہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں نوجوانوں نسل میں تمباکو نوشی کے رجحان میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تنظیم کے ایگزیکٹو کوآرڈینیٹر ندیم اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ’’محتاط اندازوں کے مطابق ملک میں ہر روز 1,200 بچے سگریٹ نوشی کا استعمال شروع کر رہے ہیں، جن کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں تمباکو نوشی کی شرح میں مسلسل اضافے کی بظاہر وجہ سرکاری سطح پر اس سنگین مسئلے پر عدم توجہی ہے۔

ندیم اقبال نے کہا کہ قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنا جرم ہے لیکن اُن کی تنظیم کے حالیہ جائزہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔

اُن کے بقول تمباکو نوشی کی وجہ سے صحت عامہ کی پہلے ہی محدود سہولتوں پر غیر ضروری بوجھ پڑ رہا ہے اور حکومت مروجہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر اس کا سد باب کر سکتی ہے۔

لیکن ماہرین کی اکثریت کا ماننا ہے کہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے صرف حکومتی کوششوں سے ہی ممکن نہیں اور اس کے لیے اصل تعاون ان لوگوں کی طرف سے درکار ہے جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

طبی ماہرین نے عالمی دن کے موقع پر تمباکو نوشی کرنے والوں کو اس کا استعمال ترک کرنے پر زور دیا ہے، مگر ساتھ ہی اُنھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس مضر صحت عادت میں مبتلا افراد کو سیگریٹ کا استعمال مرحلہ وار ترک کرنا چاہیئے کیوں کہ تمباکو نوشی ایک دم چھوڑنے سے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG