رسائی کے لنکس

وزیر اطلاعات پرویز رشید کہتے ہیں کہ اُن کی جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ چار ہفتوں میں قومی سلامتی کے اداروں سے دہشت گردی کے مسئلے سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی اور اب اس عمل میں دیگر جماعتوں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ملک کی سیاسی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشاورتی عمل بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ تمام فریقوں سے مشاورت کے بعد دہشت گردی کے خلاف متفقہ حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ بدامنی پھیلانے والے عناصر کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ ناصرف حکومت بلکہ قوم بھی اُن کے خلاف یکجا ہے۔

’’جو پر امن ملک دیکھنا چاہتے ہیں اُن میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہے، اُس میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی بھی شامل ہے…. ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سب ایک ہیں۔‘‘

پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اضافے کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی اعلٰی سیاسی قیادت نے نا صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کی ہیں بلکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کل جماعتی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔


وزیر اطلاعات پرویز رشید کہتے ہیں کہ اُن کی جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ چار ہفتوں میں قومی سلامتی کے اداروں سے دہشت گردی کے مسئلے سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی اور اب اس عمل میں دیگر جماعتوں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’’کل جماعتی کانفرنس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو دعوت دی جائے گی، اُنھیں بریفنگ بھی دی جائے گی، اُن کا نکتہ نظر بھی معلوم کیا جائے گا اور پاکستان کو محفوظ ملک بنانے کے لیے ایک متقفہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف نے کل جماعتی کانفرنس 12 جولائی کو بلانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکز میں حکومت سازی کے بعد بلوچستان، خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان اور کراچی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دہشت گردی کے ان واقعات کے تناظر میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبات کیے جا رہے تھے کہ ملک کو اس لعنت سے چھٹکارے کے لیے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو فوری طور پر ایک متفقہ قومی حکمت عملی وضع کرنی چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG