رسائی کے لنکس

جنرل راحیل شریف کا دورہ کابل


کابل میں جنرل راحیل کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

کابل میں جنرل راحیل کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب حالیہ مہینوں میں کشیدہ ہونے والے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اتوار کو افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے کابل میں سیاسی و عسکری قائدین سے ملاقاتیں کیں اور مختلف دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی فوج کے مطابق یہ دورہ افغانستان میں امن عمل اور سرحد کی بہتر نگرانی سے متعلق پوری سنجیدگی اور امید کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب حالیہ مہینوں میں کشیدہ ہونے والے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی اور رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں منعقدہ "ہارٹ آف ایشیا" کانفرنس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی کی پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف سے ملاقاتوں کے علاوہ دونوں ملکوں اور چین و امریکہ کے نمائندوں کے مذاکرات ہوئے۔

امریکہ، افغانستان میں مصالحتی عمل میں پاکستان کی کوششوں کو اہم قرار دیتے ہوئے ایسے اعلیٰ سطحی رابطوں کی حوصلہ افزائی کرتا آیا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیرداخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، جنرل راحیل شریف کے دورے کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں۔

"اس کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ اعتماد سازی ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے کہ مذاکراتی عمل اگر شروع ہو تو کس طرح سے ہوگا۔۔۔بنیادی طور پر راحیل شریف ہی اعتماد سازی کو بڑھا سکتے ہیں اور ان کی یقین دہانی سے کافی فرق پڑے گا میرا خیال میں۔"

جنرل راحیل شریف نے آخری مرتبہ رواں سال مئی میں وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ کابل کا دورہ کیا تھا جس کے بعد جولائی کے اوائل میں پاکستان نے افغان طالبان اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان پہلے براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔

یہ مذاکراتی سلسلہ ایک ہی دور کے بعد طالبان کے امیر ملا عمر کی موت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں میں یہ گفتگو دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

لیکن اس دوران طالبان کے آپسی اختلافات اور مشرقی افغانستان میں شدت پسند گروپ داعش کے جگہہ بنانے جیسے معاملات نے بھی امن عمل پر سوالیہ نشان کھڑے کیے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں جہاں طالبان نے افغان علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوششوں کو تیز کیا ہے وہیں داعش کے حامی جنگجوؤں سے بھی ان کی لڑائیاں ہوتی آرہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG