رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج کو مستقبل میں جارحیت کا ’بھرپور جواب‘ دینے کا حکم


پاکستانی فوج کو مستقبل میں جارحیت کا ’بھرپور جواب‘ دینے کا حکم

پاکستانی فوج کو مستقبل میں جارحیت کا ’بھرپور جواب‘ دینے کا حکم

دریں اثناء پاکستانی فوجی حکام نے مستقبل میں امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو نیٹو حملے میں ملوث افراد کو ’’سزا‘‘ دینے اور پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں پر باضابطہ ’’معافی‘‘ سے مشروط کردیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے فوجیوں کو ملک کی سرحد پر مستقبل میں افغانستان کی جانب سے کسی بھی ’’جارحیت کا بھرپور جواب‘‘ دینے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ بیان اندرون ملک کی جانے والی اس تنقید کے بعد سامنے آیا ہے کہ گزشتہ ہفتے مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر جب نیٹو کے ہیلی کاپٹر دو گھنٹوں تک بمباری کرتے رہے تو اس کا موثر جواب کیوں نہیں دیا گیا۔

جمعہ کو پاکستانی اخبارات میں چیف آف آرمی سٹاف کے فوجیوں کے نام ایک پیغام کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں جس میں سرحدوں پر تعینات فورسز سےکہا گیا ہے کہ آئندہ کسی بھی حملے کی صورت میں ’’اعلٰی کمانڈ کی ہدایات کا انتظار کیے بغیر بھرپور انداز میں جوابی کارروائی کی جائے۔‘‘

جنرل کیانی نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ فوج مستقبل میں کسی بھی حملے کی صورت میں اپنے طور پر جوابی کارروائی کر سکتی ہے۔’’مجھے آپ کی صلاحیتوں اور عزم پر پورا بھروسہ ہے‘‘۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں فوجی ذرائع نےاس پیغام کے مندرجات کی تصدیق کی ہے۔

اُدھر پاکستان کی سیاسی قیادت نے بھی مستقبل میں ملک کے خلاف کسی جارحیت کا ’’من توڑ‘‘ جواب دینے کے فوج کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔ اسلام آباد میں جمعہ کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں فوج کے اقدامات کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھےجس کے بعد خطہ مسلسل کشیدگی کا شکار ہےاور جنرل کیانی کے تازہ بیان سے اس میں شدت آنےکا امکان ہے۔

’’نتائج کی پرواہ کیے بغیر اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی جارح بآسانی واپس نہ جانے پائےاوردستیاب ہتھیاروں سے بھرپور جوابی کارروائی کی جائے۔‘‘

فوجیوں کے نام پیغام میں آرمی چیف نے اعتراف کیا ہےکہ اگر حملے کا نشانہ بننے والی چوکیوں اوراعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان مواصلاتی رابطہ منقطع نا ہوتا تو نیٹو کی فضائی کارروائی کا موثرانداز میں جواب دیا جا سکتا تھا۔

’’حملے کا نشانہ بننے والی چوکیوں اور مختلف سطح بشمول ایچ کیو اورجی ایچ کیو کے درمیان مواصلاتی رابطہ ٹوٹنے کے باعث صورتحال واضح نہ ہوسکی اس لیے بروقت فیصلہ نہ کیا جاسکا۔۔۔ جوابی کارروائی بہتر ہو سکتی تھی اگر پی اے ایف (پاکستانی فضائیہ) اس میں شریک ہو جاتی۔ البتہ، اس میں پی اے ایف کی کوئی غلطی نہیں۔‘‘

اُنھوں نے مہمند ایجنسی میں فوجی چوکیوں پر نیٹو کے ’’بلااشتعال اور قابل مذمت‘‘ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی بہادری کو ایک بار پھرخراج عقیدت پیش کیا۔

جنرل کیانی

جنرل کیانی

مقامی میڈیا کےمطابق نیٹو حملے کے بعد پاکستانی فوجیوں میں پائی جانے والی ’’مایوسی‘‘ کے تناظر میں خصوصی طور پر تیار کیے گئے جنرل کیانی کے اس مراسلے کا مقصد اپنی افواج کے حوصلے بلند کرنا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے اپنے پیغام میں افغانستان کے ساتھ سرحد پر تعینات فوجیوں کے کردار پر نظر ثانی کا بھی اشارہ دیا ہے۔ موجودہ حکمت عملی کے تحت فوجیوں کوعسکریت پسندوں سے نبرد آزما ہونے کی ذمہ داری سر فہرست ہے اور انھیں ہتھیار بھی اسی مناسبت سے دیے گئے ہیں۔

لیکن نیٹو حملے کے بعد پاکستانی فوجی قیادت اطلاعات کے مطابق اس حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگئی ہے اور عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی کی بجائے فوجیوں کی بنیادی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت ہوگی جس کے لیے اُنھیں مناسب ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔

دریں اثناء پاکستانی فوجی حکام نے مستقبل میں امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو نیٹو حملے میں ملوث افراد کو ’’سزا‘‘ دینے اور پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں پر باضابطہ ’’معافی‘‘ سے مشروط کردیا ہے۔

روزنامہ ڈان میں فوجی ذرائع کے حوالے سے جمعہ کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں امریکہ کو بھیجے گئے ایک خط کے ذریعے پاکستان کی ان شرائط سے امریکی حکام کو آگاہ کیا جاچکا ہے۔

’’اس سے کم کسی بات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔۔۔ دوسری صورت میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت داری پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگا۔‘‘

مزید برآں امریکہ کو بھیجے گئے خط میں اس بات کی وضاحت بھی مانگی گئی ہے کہ جب نیٹو اور پاکستانی فوجی قائدین کے درمیان رابطہ ہونے پر اتحادی ہیلی کاپٹر حملہ روک کر واپس چلے گئے تھے تو کچھ دیر بعد واپس آکرانھوں نے دوبارہ کارروائی کیوں کی۔

XS
SM
MD
LG