رسائی کے لنکس

’12 مزید دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوجی عدالتوں سے اب تک درجنوں مجرموں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں لیکن ملک میں انسانی حقوق اور بعض وکلا تنظیمیں فوجی عدالتوں کی کارروائی پر عدم اطمینان کر اظہار کر چکی ہیں

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے مزید 12 دہشت گردوں کی سزاؤں کی توثیق کر دی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ سزائے موت پانے والے یہ مجرم "دہشت گردی جیسے گھناؤنے جرائم بشمول شہریوں کے قتل، پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں پر حملوں، اسکولوں اور مواصلاتی نظام کے بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کرنے میں ملوث تھے۔"

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق جن مجرموں کی سزاؤں کی توثیق کی گئی اُن میں سے عبدالقیوم باچا کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہے اور وہ فوجی افسراں و جوانوں کو قتل کرنے کے لیے لڑکیوں کے اسکولوں اور صحت کے بنیادی مرکز کو تباہ کرنے کے مقدمات میں ملوث تھا۔

تین مجرموں محمد آصف، شہادت حسین اور یاسین کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے بتایا گیا، اُنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں کے قتل پر سزائے موت سنائی گئی۔

دیگر آٹھ مجرم جن کی سزاؤں کی توثیق کی گئی اُن میں محمد طیب، سعد اکبر، محمد ایاز، برکت علی، عزیز الرحمٰن، حسن ڈار، اسحاق اور بحرام شیر بتایا گیا۔

’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق ان تمام مجرموں کا تعلق بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ فوجیوں پر حملوں کے علاوہ وہ لڑکیوں کی اسکولوں پر حملوں میں بھی ملوث رہے۔

دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گردوں کے مہلک ترین حملے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے آئین میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔

ان عدالتوں سے اب تک درجنوں مجرموں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں لیکن ملک میں انسانی حقوق اور بعض وکلا تنظیمیں فوجی عدالتوں کی کارروائی پر عدم اطمینان کر اظہار کر چکی ہیں جب کہ ان عدالتوں سے سزائیں پانے والے بعض مجرموں نے ملک کی عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

جن مشتبہ شدت پسندوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں اُن میں سے بعض کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اُن کے رشتہ داروں کو نا تو اپنی مرضی کا وکیل مل سکا اور نا ہی اُن کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔

حکومت اور فوج کا موقف ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران مجرموں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جاتا ہے اور فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف وہ اپیل کا حق بھی رکھتا ہے۔

پاکستانی حکومت کے عہدیداران فوجی عدالتوں کے قیام پر ہونے والی تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش مخصوص حالات میں ایسے اقدام ناگزیر ہیں۔

گزشتہ سال ہی جس آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا لیکن عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو برقرار رکھنے کا کہا تھا۔

XS
SM
MD
LG