رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کے فیصلے پر عمل درآمد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوج کے مخصوص دستے ہوائی اڈے سمیت اسلام آباد میں حساس اور اہم مقامات پر پولیس اور سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت کی طرف اسلام آباد میں یکم اگست سے تین ماہ کے لیے فوج کی تعیناتی کے فیصلے پر عمل درآمد کا آغاز جمعہ سے ہو گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے اور مجموعی طور پر اسلام آباد میں امن و امان کے لیے فوج کو پولیس اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے محدود وقت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق یہ فیصلہ آئین کے 'آرٹیکل 245' کے تحت کیا گیا۔

فوج کے مخصوص دستے ہوائی اڈے سمیت اسلام آباد میں حساس اور اہم مقامات پر پولیس اور سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔

جب کہ فوجی دستے شہر میں 'صریح الحرکت فورس' کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

وفاقی حکومت کے مطابق صوبائی دارالحکومتوں میں بھی جہاں جہاں فوج کی ضرورت ہوئی وہاں اسی طریقہ کار کو استعمال کیا جائے گا۔

وزیراطلاعات پرویز رشید کہہ چکے ہیں کہ اہم تنصیبات پر پہلے ہی فوج تعینات ہے اور اُنھیں اپنی ذمہ داریوں کی بجا آوری کے لیے قانونی تحفظ درکار تھا جو آئین کے آرٹیکل 245 کی صورت میں اُنھیں فراہم کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کے فیصلے پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر تنقید بھی کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ فیصلہ بظاہر عمران خان کی جماعت کی طرف 14 اگست کو اسلام آباد میں ایک بڑی احتجاجی ریلی کے اعلان کے تناظر میں کیا گیا۔

تاہم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور حکمران جماعت کے دیگر رہنما کہہ چکے ہیں کہ اس فیصلے کا کسی بھی طرح سے تعلق عمران خان کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد شدت پسندوں کی طرف سے یہ دھمکیاں دی گئیں کہ وہ پاکستانی شہروں میں حملہ کریں گے۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن 15 جون سے جاری ہے اور اس کارروائی کے آغاز کے بعد ہی سے ملک میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔

اب تک کی فضائی اور زمینی کارروائی میں فوج کے مطابق 570 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جب کہ شمالی وزیرستان کے انتظامی مرکز میرانشاہ کے علاوہ دہشت گردوں کے دو دیگر مضبوط گڑھ کہلائے جانے والے علاقوں بویا اور دیگان سے شدت پسندوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔

جب کہ فوج کے مطابق شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے علاقے میر علی کے بیشتر حصے سے بھی دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG