رسائی کے لنکس

مہمند حملے پر امریکی تحقیقات مسترد


سرحدی چوکیوں پر حملےمیں پاکستانی فوج کے دو افسران سمیت 24 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

سرحدی چوکیوں پر حملےمیں پاکستانی فوج کے دو افسران سمیت 24 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان کی فوج نے مہمند ایجنسی میں اپنی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے مہلک حملے سے متعلق امریکہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے کئی بنیادی مندرجات کو حقائق کے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سنٹرل کمان کی رپورٹ پاکستان کو 24 دسمبر کو موصول ہوئی جس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ حقائق اور درست تناظر کو دہرایا جا سکے۔

’’26 نومبر 2011ء کو پیش آنے والے واقعے کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایساف (اتحادی افواج) کی جانب سے سرحد کے قریب آپریشن کے بارے میں پاکستان کو کسی بھی سطح پر مطلع کرنے میں ناکامی تھی۔‘‘

پاکستانی فوج نے سلالہ میں فوجی چوکیوں پر ہونے والے حملے کی 25 صفحات پر مشتمل اپنی تحقیقاتی رپورٹ بھی ذرائع ابلاغ کو جاری کی ہے، جس میں اس نے اپنے نکتہ نظر سے اس واقعے کے اسباب کا احاطہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی تحقیقاتی افسر بریگیڈئر اسٹیفن کلارک کوحقائق مرتب کرنے اور حملے کے ذمہ داران کی نشاندہی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا لیکن یہ امر افسوس ناک ہے کہ حتمی دستاویز میں اس مہلک واقعے میں ملوث افراد کا تعین نہیں کیا گیا، جس کے بغیر تحقیقاتی رپورٹ مکمل نہیں ہو سکتی۔

مزید برآں پاکستانی فوج نے نیٹو کی متوازی تحقیقات سے متعلق ہدایت نامے پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔ ’’اس میں پاکستان کی طرف جس انداز میں اشارہ کیا گیا ہے اس سے بظاہر ملنے والے تاثر کے مطابق پاکستانی فوج دوست نہیں دشمن ہے۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سلالہ حملے کے اہم اسباب کا رپورٹ میں تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ ’’افغانستان میں بین الاقوامی افواج متفقہ قیادت کے فقدان کا شکار ہیں۔‘‘

پاکستانی فوج کے بقول امریکی تحقیقاتی رپورٹ میں سرحدی چوکیوں پر حملے کو اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی اور متناسب طاقت کے استعمال کو مرکزی نکتہ قرار دیا گیا ہے جو حقائق کے برعکس ہے کیونکہ پاکستان کی جانب سے چند منٹوں بعد ہی اتحادی افواج کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ ان کا نشانہ پاکستانی فوجی اہداف ہیں لیکن اس کے باوجود بمباری کا سلسلہ بہت دیر تک جاری رہے جو امریکی دلائل کی صریحاً نفی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان حقائق کی روشنی میں حملے کی جزوی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنا ناصرف غیر منصفانہ بلکہ ناقابل قبول ہے۔

نیٹو حملے میں پاکستانی فوج کے دو افسران سمیت 24 اہلکار ہلاک جب کہ 13 زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے پاکستان نے احتجاجاً امریکہ اور نیٹو کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون فوری طور پر معطل کر دیا تھا اور یہ صورتحال بدستور برقرار ہے۔

XS
SM
MD
LG