رسائی کے لنکس

پاکستان: پانچ ہفتوں میں 8800 مشتبہ افراد گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرکاری بیان کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 13 ہزار سے زائد سرچ آپریشن کیے گئے۔ اب تک سب سے زیادہ گرفتاریاں صوبہ خیبر پختونخواہ میں کی گئیں جن کی تعداد 4949 ہے۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت ملک بھر میں 24 دسمبر سے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائیوں میں 8837 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 13 ہزار سے زائد سرچ آپریشن کیے گئے۔

اب تک سب سے زیادہ گرفتاریاں صوبہ خیبر پختونخواہ میں کی گئیں جن کی تعداد 4949 ہے جب کہ صوبہ پنجاب سے 1859، بلوچستان سے 263، اسلام آباد سے 455، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے پانچ، گلگت بلتستان سے 10، جب کہ قبائلی علاقوں سے 118 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

بیان کے مطابق لاوڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر لگ بھگ تین ہزار مقدمات کا اندراج کیا گیا اور تقریباً دو ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

نفرت انگیز تقاریر پر تقریباً چار سو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ نفرت پھیلانے پر مبنی مواد بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق سات ہزار افغان پناہ گزینوں کا پنجاب اور تین لاکھ بیس ہزار سے زائد کا بلوچستان میں اندراج کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ایک کروڑ 63 لاکھ موبائل فون سمز کی تصدیق کی جا چکی ہے اور یہ عمل جاری ہے۔

16دسمبر 2014 کو پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں طالبان کے مہلک حملے میں 134 بچوں سمیت150 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کے طویل مشاورتی اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کی منظوری دی گئی تھی۔

اس قومی لائحہ عمل کے تحت پاکستان بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے کوائف کے اندارج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پاکستانی پارلیمان نے رواں ماہ کے اوائل ہی میں اکیسویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی منظوری دی تھی، جس کے تحت دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف حال ہی میں سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس پر عدالت عظمٰی نے وفاق میں اٹارنی جنرل کے علاوہ چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے جواب طلب کر رکھا۔

پشاور اسکول پر حملے کے بعد پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی بھی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک 20 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG