رسائی کے لنکس

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی


آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی

” ہم آج کہا ں ہیں اور زندگی کہاں۔ ہم ہیں ہر جگہ اور پھر بھی کہیں نہیں۔ رات ہے اور دن ہے لیکن وقت کا حساب نہیں ۔ ماضی کی خاموشی ہے اور مستقبل کا خوف۔ ہم ہیں یہاں اور پھر بھی کہیں نہیں۔“ اس ذہنی کش مکش کو کراچی میں جاری ایک آرٹ نمائش میں نفسیاتی خلا کا نام دیا گیا ہے اور یہی اس نمائش کا عنوان بھی ہے۔

اس نمائش میں آ ٹھ فنکاروں نے حصہ لیا ہے جنھوں نے معاشرے کی نفسیاتی اور جذباتی سوچ کو مصوری کے مختلف انداز کے ذریعے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فنکار کہتے ہیں کہ ان کے فن پارے جذباتی پیچیدگیوں پر کی جانے والے ایک تحقیق ہے اور یہ بتاتی ہے کہ ” ہم ان سوچوں کی تکرار سے کیسے نمٹتے ہیں جو ہمارے ذہنوں پر غالب آجاتی ہیں اور پھر کیسے ان سے فرار حاصل کرتے ہیں۔ ہم واقعات کی جذباتی اور نفسیاتی گہرائیوں میں جا کر خودکو مصروف کر دیتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر موجود کمزوریوں کا احساس ہوتا ہے۔ ان خیالات کا مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم صرف ایک وجود نہیں بلکہ خوش گوار اور خوفناک تجربات کا مجموعہ ہیں ۔“

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی

نمائش میں ثناء عبید کا کام سب سے نمایاں ہیں جنھوں نے لاثانی پر دونوں طرف ٹیپ کے استعمال سے اپنے ذہن میں سفر کرنے والے خیالات کو ایک منفرد شکل دی ہے۔ وہ اپنے ذہن کو اپنے فن پاروں کے ظاہری منظر سے تشبیہ دیتی ہیں جہاں بیک وقت بہت کچھ ہورہا ہے ۔ اپنے اس کام کو وہ لاشعوری تحاریک کا مظہر قرار دیتی ہیں۔

فاروق مصطفی کے فن پاروں کا عنوان” مبہم سفر “ ہے جو ان کے جاپان میں قیام کے دوران وہاں کے ماحول سے مانوس ہونے کے تجربات پر مشتمل ہے ۔ ”میں نے اپنے ارد گرد سے اجزاء اکٹھے کرکے حقیقی دنیا کے اپنے تصور کو بیان کیا ہے مگر یہ پھر بھی مبہم ہے۔ “

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی


نمائش میں حصہ لینے والی ایک اور آرٹسٹ نورالصباح سعید کہتی ہیں کہ عموماً لوگ ظاہری خدوخال کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جب کہ اصل کردار اندرونی نظام کا ہے ۔ ”اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے مشینوں کی حرکت کا تجزیہ کیا جس نے میرے ذہن کو انسانی اعضاء اور ان کی حرکت کی طرف متوجہ کیا۔ اپنی اس تحقیق کے دوران میں زولوجی لیب بھی گئی جہاں مجھے اندازہ ہوا کہ انسان اور جانوروں کی جسمانی ساخت کتنی مماثلت رکھتی ہے لیکن ان کا کردار کتنا مختلف ہے ۔ “ نور الصباح نے اپنے کام میں پنسل، پین اور سیاہی کا استعمال کیا ہے۔

نمائش میں حصہ لینے والے آرٹسٹ شہر کے مختلف اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں انڈس اسکول آف آرٹس اینڈ آرکیٹیکچر، کراچی یونیورسٹی اور نیشنل کالج آف آرٹس وغیرہ شامل ہیں۔ نمائش میں ان فن کاروں کے دو دو فن پارے شامل کیے گئے تھے ۔

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی

آرٹ کے ذریعے جذباتی پیچیدگیوں کی عکاسی


نفسیاتی خلا کے عنوان سے اس نمائش میں شامل دیگر فن کاروں سلمان طور، عدیل ظفر، شہر زادے جونیجو اور حنا فاروقی نے بھی جہاں معاشرتی رویوں اور اپنے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا ہے وہاں ان فن کاروں کے بقول انھوں نے نفسیاتی الجھنوں کی منظر کشی کرکے آرٹ کے ذریعے معاشرے میں ایک بحث کا آغاز کیاہے۔

XS
SM
MD
LG