رسائی کے لنکس

فن و ادب سے وابستہ شخصیات کے سلامتی سے متلعق خدشات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نامور مصنف اور دانشور انور مقصود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پڑھے لکھے لوگوں اور فن سے شناسائی رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جانا باعث تشویش ہے۔

پاکستان کے معروف قوال گھرانے کے چشم و چراغ اور موجودہ دور کے مقبول قوال امجد صابری کو کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعے سے جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ افسردہ ہیں وہیں فن و ادب سے وابستہ شخصیات محبت اور امن کے پیامبر کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

امجد صابری کو بدھ کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور جمعرات کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں ان کی تدفین پاپوش نگر کے قبرستان میں ہوئی۔

ان کے لواحقین اور احباب کا کہنا ہے کہ وہ ایک ملنسار شخصیت تھے اور ان کی نہ تو کسی سے دشمنی تھی اور نہ کبھی انھیں کوئی دھمکی ملی تھی۔

دہشت گردی کے شکار اور اس عفریت سے نبرد آزما ملک پاکستان میں شدت پسندی پچاس ہزار سے زائد جانوں کو نگل چکی ہے جن میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ تقریباً سب ہی طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

لیکن امجد صابری پر ہلاکت خیز حملے نے فن و ادب سے وابستہ لوگوں کے سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

نامور مصنف اور دانشور انور مقصود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پڑھے لکھے لوگوں اور فن سے شناسائی رکھنے والوں کو نشانہ بنایا جانا باعث تشویش ہے۔

"یہ (امجد صابری) میرے سامنے بڑے ہوئے تھے، اچھا بچہ تھا یہ، کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔۔۔ پچھلے چار پانچ ماہ میں اتنے لوگ چلے گئے، بجیا چلی گئیں، عبداللہ حسین چلے گئے، انتظار حسین چلے گئے، کمال احمد رضوی چلے گئے جو زندہ ہیں ان کو ہدف بنایا جا رہا ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ گارڈ افورڈ نہیں کر سکتے۔"

صوفیانہ اور لوک شاعری کو گیتوں میں ڈھالنے والے معروف موسیقار اور گلوکار اریب اظہر کہتے ہیں کہ پیار اور امن کا پیغام دینے والے کو براہ راست نشانہ بنایا جانا بہت ہی افسوسناک ہے۔

"یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہمارے سامنے آگیا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس رخ میں جا رہا ہے کہ آپ براہ راست فن موسیقی کے ایک بڑے نام، جو ملک کا ایک اثاثہ اور وہ بھی قوالی جو کہ ہماری قدیم روایت ہے اور وہ بھی ایسی روایت جو اسلام کے کسی ایک فرقے کی نہیں تمام کی نمائندگی کرتی ہے۔۔۔تو ایک ایسے پیار اور محبت کے پیغام کو براہ راست نشانہ بنانا بہت ہی ہیبت ناک اور افسوسناک واقعہ ہے۔"

ان کے بقول ایسے حملے کرنے والے کے "ذہن میں نہ جانے کتنا خوف ہے کہ کسی کے سامنے صوفی کلام پڑھنے سے انھیں اتنا خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ انھیں کسی کی جان لینی پڑے۔"

حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ردعمل ہیں اور شدت پسند اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں جن کا اس کے بقول بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دم توڑتے دہشت گردوں کو دوبارہ زور پکڑنے نہیں دیا جائے گا۔

"یقیناً جن لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ضرب عضب کی شکل میں وہ اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے بڑے ناموں پر حملہ آور ہونے کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔۔۔یہ پوری پاکستانی قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے اس میں اگر کوئی مردہ زندہ ہونے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کا بھی مقابلہ کریں گے پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔"

وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ امجد صابری کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدام کیے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG