رسائی کے لنکس

سخت سکیورٹی میں یوم عاشور، موبائل فون سروس کی عارضی بندش


ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں مرکزی ماتمی جلوسوں کی حفاظت اور امام بارگاہوں کے لیے ہزاروں رضا کاروں نے بھی سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا۔

پاکستان بھر میں جمعہ کو یوم عاشور کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے پولیس اور رینجرز کے ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔

ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں مرکزی ماتمی جلوسوں اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے ہزاروں رضا کاروں نے بھی سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا۔

دہشتگری کے خطرات کے پیش نظر ملک کے چھوٹے بڑے 80 شہروں میں موبائل فون کی سروس صبح ہی بند کر دی گئی تھی جو بعد ازاں جمعہ کی شام جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی۔

حفاظتی انتظامات کے تحت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی تھی جب کہ جلوس کے راستوں کی کلوز سرکٹ کیمروں کے علاوہ فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

ملک کے تمام بڑے شہروں میں خصوصی کنٹرول روم بھی بنائے گئے تھے جہاں سے ماتمی جلوسوں کی نگرانی کی جاتی رہی۔

جلوسوں اور مجالس میں شامل ہونے کے خواہشمند افراد کو تلاشی کے بعد ہی شمولیت کی اجازت دی گئی۔

جمعرات کو بھی ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون سروس دن بھر معطل رہی۔

اس دوران وفاقی دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرکے تخریب کاری کے منصوبے ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں عوام سے کہا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد اور نظم و ضبط پیدا کریں تاکہ ملک اور مذہب کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔
XS
SM
MD
LG