رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش کی خاتون سفارت کار کو پاکستان چھوڑنے کا حکم

  • عشرت سلیم

پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

بظاہر یہ اقدام ڈھاکا کی طرف سے گزشتہ ماہ پاکستان کو بنگلہ دیش سے اپنی ایک سفارتکار واپس بلانے کے حکم کے جواب میں کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ وہ اپنی سینیئر سفارتکار موشومی رحمٰن کو واپس بلائے۔

پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش کی سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم اطلاعات کے مطابق سفارت کار موشومی رحٰمن پر الزام ہے کہ وہ سفارتی آداب کے منافی سرگرمیوں میں ملوث رہیں۔

ڈھاکا میں وزارت خارجہ کے عہدیدار شہریار عالم نے اس بات کی تصدیق کی کہ موشومی رحمٰن کو اگلے 48 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موشومی رحمٰن کو پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں بنگلہ دیشی سفارتخانے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں پاکستان کے سابق سفیر اشرف قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بظاہر یہ اقدام ڈھاکا کی طرف سے گزشتہ ماہ پاکستان کو بنگلہ دیش سے اپنی ایک سفارتکار واپس بلانے کی درخواست کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

’’اس قسم کے اقدام خاصے سخت ہوتے ہیں کہ کسی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینا یا کسی دوسرے ملک کو کہنا کہ وہ اپنے سفارتکار کو واپس بلا لے۔ عموماً اگر ایک ملک اس قسم کا اقدام کرے بغیر کسی جواز کے یا اس کا جواز اتنا واضح نہ ہو تو اس صورت میں دوسرا ملک بھی اس قسم کی پالیسی اخیتار کرتا ہے۔‘‘

دو ہفتے قبل بنگلہ دیش نے مبینہ طور پر شدت پسندوں کی مالی معاونت میں ملوث ہونے پر پاکستان سے اپنی سفارتکار فارینہ ارشد کو واپس بلانے کا کہا تھا۔

پاکستان نے ان الزامات کو مکمل طو پر بے بنیاد کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق دسمبر میں ایک مشتبہ شدت پسند ادریس شیخ نے ڈھاکا میں ایک عدالت میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ سفارتکار فارینہ ارشد اس کے ساتھ رابطے میں تھیں اور اسے 30,000 ٹکے بھی دیے جن کی مالیت 380 ڈالر کے قریب بنتی ہے۔

اس بیان کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت نے غیر رسمی طور پر فارینہ ارشد کو ملک سے چلے جانے کو کہا تھا۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات سامنے آنے کے بعد پاکستان نے خود ہی اپنی سفارتکار کو وطن واپس بلا لیا اور انہیں ملک بدر نہیں کیا گیا۔

ڈھاکا میں حزب اختلاف کے دو سینیئر رہنماؤں کو 1971 کی جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات میں پھانسی دیے جانے پر پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی.

XS
SM
MD
LG