رسائی کے لنکس

’ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والا گروہ گرفتار‘


ملالہ یوسفزئی

ملالہ یوسفزئی

فوج کے ترجمان نے بتایا کہ شوریٰ نامی گروہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے جمعہ کو ایک ہنگامی نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سوات سے تعلق رکھنے والی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے گروہ کا پتہ لگا کر اُسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ اس گروہ کو ’شوریٰ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

’’یہ حملہ کرنے والا گروہ شوریٰ کے نام سے جانا جاتا تھا، یہ گروہ شناخت ہو چکا ہے اور گرفتار ہو چکا ہے۔ اس میں کل 10 دہشت گرد شامل تھے اور اس کا تعلق کالعدم (دہشت گرد گروپ) ٹی ٹی پی سے تھا۔‘‘

ملالہ یوسفزئی کو سوات میں اکتوبر 2012ء میں طالبان نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ حملے کے وقت ملالہ کے ساتھ اُس کی دو دیگر ساتھی طالبات شازیہ اور کائنات بھی شامل تھیں۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ حملے میں دو دہشت گردوں نے حصہ لیا جنہوں نے شناخت کر کے ملالہ کے سر پر گولی ماری جب کہ اسکول کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی جس سے شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئیں۔

واضح رہے کہ ملالہ کو شدید زخمی حالت میں پہلے پشاور اور پھر راولپنڈی میں فوج کے اسپتالوں میں علاج کے بعد خصوصی ائیر ایمبولنس کے ذریعے علاج کے لیے برطانیہ منتقل کیا گیا جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔

فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے گروہ کو انٹیلی جنس اداروں کی مشترکہ کوششوں سے گرفتار کیا گیا۔

’’اسرار الرحمٰن اس کیس میں گرفتار ہونے والا پہلا ملزم تھا، دوران تفتیش اُس نے اس حملے میں اپنی شمولیت کا اعتراف کیا اور اس کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر باقی تمام ملزمان بھی پکڑے گئے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ شوریٰ نامی گروہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا تھا۔

’’شوریٰ نامی اس گروہ کا سرغنہ ظفر اقبال تھا جس کی سوات میں فرنیچر کی دکان تھی۔ یہ گروہ ملا فضل اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا تھا جو افغانستان کے صوبہ کنڑ سے دو ساتھیوں عبداللہ عرف ابوبکر اور حبیب خان کے ذریعے شوریٰ کے ارکان سے رابطے میں تھا۔‘‘

میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ ملا فضل اللہ اور تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغانستان میں رہتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر یہ دہشت گرد گروہ پکڑا نا جاتا تو اُس نے مزید 22 اہم شخصیات کو نشانہ بنانا تھا۔

’’اب تمام ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں اُن پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔‘‘

وزیرستان میں فوجی آپریشن میں مصروف

وزیرستان میں فوجی آپریشن میں مصروف

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ پہلے سے طے شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔

’’ابھی تک 2200 سے زائد آپریشن انٹیلی جنس کے معلومات پر کیے جا چکے ہیں جن میں 45 سخت گیر دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور تقریباً 134 دہشت گرد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے کوئٹہ میں دو ہوائی اڈوں اور حال ہی میں کراچی میں بحریہ کے ڈاک یارڈ پر حملوں کو بھی ناکام بنایا گیا۔

’’آخری دہشت گرد کو ختم کرنے تک حتیٰ کہ اگر دور دراز علاقے تک جانا پڑا تو اس آپریشن کو جاری رکھا جائے گا۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب میں اب تک لگ بھگ ایک ہزار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG