رسائی کے لنکس

آسڑیلیا کو ہرانے کا جذبہ و صلاحیت رکھتے ہیں، آفریدی


پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی

پاکستان کے کپتان شاہد آفریدی

عالمی کرکٹ کپ کے مقابلوں میںآ ج تک پاکستان اور آسٹریلیا کا سات مرتبہ آمنا سامنا ہوا ہے جس میں سے اُس نے تین میچ جیتے اور چار ہارے ہیں۔ اِن میں 1992ء کے عالمی کپ میں ایک اہم میچ میں کامیابی شامل ہے جس نے پاکستان کے لیے عالمی چیمپیئن بننے کی راہ ہموار کی تھی۔

پاکستان کے کپتان شاہد آفرید ی نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اُن کی ٹیم آسٹریلیا جیسے مضبوط حریف کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عالمی کرکٹ کپ کے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی گروپ اے کی اِن دونوں ٹیموں کے درمیان میچ ہفتہ کو کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے مسلسل تین مرتبہ کرکٹ کا عالمی کپ جیتا ہے اور 1999ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان سے ایک میچ ہارنے کے بعداُس نے دنیا ئے کرکٹ کے اِن سب سے بڑے مقابلوں میں کھیلے گئے اپنے 34 میچوں میں سے ایک بھی نہیں ہارا ہے۔

لیکن شاہد آفرید ی نے کہا ہے کہ وہ پُراعتماد ہیں کہ اُن کی ٹیم 1999ء کی طرح ایک بار پھر آسٹریلیا کو شکست سے دوچار کرسکتی ہے۔ ”مجھے یقین ہے کہ ہم میں آسٹریلیا کو ہرا کر اُن کی ناقابل شکست مہم کو توڑنے کی صلاحیت اور جذبہ موجود ہے۔“

کرکٹ کے مبصرین کے خیال میں پریما داسا سٹیڈیم کی سست رفتار پِچ پاکستان کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہے اور آسٹریلیا کے خلاف میچ جیت کر دس پوائنٹس کے ساتھ وہ گروپ اے میں سب سے اُوپر آسکتا ہے۔

دسویں عالمی کپ میں پاکستان نے کینیا ، سری لنکا ، زمبابوے اور کینیڈا کے خلاف اپنے میچ جیت کر آٹھ پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں اُسے 110 رنز سے شکست ہوئی تھی۔

کپتان آفرید ی کا کہنا ہے کہ اُن کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے خلاف میچ کی اہمیت کا احساس ہے اور وہ اس میں بہتر کارکردگی دیکھانے کے لیے بے تاب ہیں۔ ”ہمارے لیے ٹورنامنٹ کا یہ بہت اہم میچ ہے جو گروپ میں ہماری پوزیشن کا بھی تعین کرے گا اس لیے کھلاڑی جانتے ہیں کہ اُنھیں یہ میچ جیتنا ہوگا۔“

پاکستانی کپتان کے خیال میں آسٹریلیا موجود ہ ٹورنامنٹ میں ابھی تک اپنی روایتی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی ہے۔ ”اگر آپ اُن کے میچوں کا جائزہ لیں تو اُنھوں نے بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں کمزوریوں کا مظاہرہ کیا ہے جن کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اگر ہم ایسا کرسکتے ہیں تو ہم میچ جیت سکتے ہیں۔“

عالمی کرکٹ کپ کے مقابلوں میںآ ج تک پاکستان اور آسٹریلیا کا سات مرتبہ آمنا سامنا ہوا ہے جس میں سے اُس نے تین میچ جیتے اور چار ہارے ہیں۔ اِن میں 1992ء کے عالمی کپ میں ایک اہم میچ میں کامیابی شامل ہے جس نے پاکستان کے لیے عالمی چیمپیئن بننے کی راہ ہموار کی تھی۔

آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ

آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ

آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے بھی پاکستان کے ساتھ میچ کو اپنی ٹیم کے لیے رواں عالمی کپ میں پہلا بڑا مقابلہ قرار دیا ہے۔ ”ہمیں ابھی تک کسی کڑے امتحان سے گزرنا نہیں پڑا ہے لیکن کولمبو کے میچ میں ہم اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے منتظر ہیں۔“

موجود آسٹریلوی ٹیم میں وہ واحد کھلاڑی ہیں جنھوں نے 1992ء کے عالمی کپ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی تھی۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے شعیب اختر اور رزاق وہ دو کھلاڑی ہیں جو عمران خان کی قیادت میں چیمپیئن بننے والی اُس وقت کی ٹیم میں شامل تھے۔

رکی پونٹنگ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی ٹیم تمام شعبوں میں مضبوط ہے۔ ”وہ ایک خطرناک ٹیم ہے اور وہ کتنا اچھا کھیل سکتے ہیں اس کا مظاہرہ وہ سری لنکا کے خلاف میچ میں کرچکے ہیں۔اس وقت وہ ایک متوازن ٹیم دیکھائی دیتی ہے جس کے پاس اچھے تیز باؤلر اور مفید سپنر ہیں۔“

رواں عالمی کپ میں اب تک مجموعی طور پر سب سے زیادہ 16 وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی ٹیم کے کپتان کی تعریف کرتے ہوئے آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کا کہنا تھا کہ ”آفرید ی نے اب تک اپنی ٹیم کے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے“۔

XS
SM
MD
LG