رسائی کے لنکس

قومی اعزازات کی نامزدگیوں پر حکومت کو تنقید کا سامنا


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ہرسال ملک کے یوم آزادی کے موقع پر مختلف شعبوں میں عوامی خدمات سر انجام دینے والوں کے لیے سول اعزازات کے لیے نامزد شخصیات کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس برس حکومت نے جن 185 افراد کو یہ ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے ان میں ایک نمایاں تعداد کا تعلق حکمران پیپلز پارٹی سے ہے۔

ان میں چیئرمین سینیٹ فاروق نائیک، قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا، وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور صدر کے سیکرٹری جنرل سلمان فاروقی کو نشان امتیاز جب کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ فرزانہ راجہ، بیت المال کے چیئرمین زمرد خان، امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی اور صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر کو ہلال امتیاز دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیے گئے پیپلز پارٹی کے یہ تمام اراکین صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں جو حکومت پر اپوزیشن جماعتوں اور غیر جانبدار حلقوں کی جانب سے تنقید کی بڑی وجہ ہے۔ اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے الزام لگایا ہے کہ ایک ایسا معتبر اعزاز جو حقیقی ناموں میں عوامی خدمات کے صلے میں دیا جاتا ہے حکومت نے ”ریوڑیوں کی طرح اُنھیں بانٹ کر قواعد وضوابط اور میرٹ کی دھجیاں“ اُڑائی ہیں۔

لیکن وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس تنقید کو بلاجواز قرار دے کر مستر د کیا ہے اور کہا ہے کہ مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سرا نجام دینے والے افراد کے نام حکومت کی قائم کردہ ایک کمیٹی کے پاس بھیجے جاتے ہیں جو ان کی چھان بین کے بعد حتمی فہرست صدر اور وزیراعظم کو بھیجتی ہے ۔

”ایک دو ناموں پر لوگوں کا رد عمل سامنے آیا ہے، لیکن ہر شخص کی پسند نا پسند ہوتی ہے اور انسانی فطرت ہے لیکن ہمیں کسی کی پسند نا پسند کو دیکھنے کی بجائے کارکردگی کو دیکھنا ہے۔ اگر کسی کی خدمات اس قابل ہیں کہ اُن کو تسلیم کیاجائے تو اسی کی بنیاد پر ایک طریقہ کار کے تحت ان ایوارڈز کا اعلان کیا گیا۔ من پسند لوگوں کو اعزاز دینے کا جو (لیبل) لگایا جا رہا ہے یہ حقائق کے برعکس ہے۔ نا تو اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی نااہل کو نواز گیا ہے۔“

وزیراطلاعات نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی حکومتیں اپنے لوگوں کو قومی اعزازت سے نوازتی رہی ہیں ۔ لیکن حز ب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا ہے ماضی کو مثال بنا کر غلطیوں کو دہرایا نہیں جاسکتا۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ اس مرتبہ قومی اعزازت کی نامزدگی کے لیے مروجہ قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی جس کے باعث ان ایوارڈز کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG