رسائی کے لنکس

میاں افتخار حسین مقدمہ قتل میں ضمانت پر رہا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

واضح رہے کہ مقتول کے والد نے عدالت میں تحریری بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میاں افتخار حیسن اُن کے بیٹے کے قتل میں ملوث ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے سابق وزیر اطلاعات اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین کو مقدمہ قتل میں ذیلی عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

اُن پر پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک کارکن کے قتل کا مقدمہ درج ہے، اُنھیں ہفتہ کو نوشہرہ کے علاقے پبی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد جب ’پی ٹی آئی‘ کا جلوس عوامی نیشنل پارٹی کے دفتر کے سامنے سے گزر رہا تھا تو وہاں فائرنگ سے تحریکِ انصاف کا کارکن حبیب اللہ ہلاک ہو گیا جس کے قتل کا الزام میاں افتخار پر عائد کیا گیا تھا۔

میاں افتخار کی گرفتاری پر وزیراعظم نواز شریف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا گیا۔

منگل کو میاں افتخار حسین کو نوشہرہ کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل کے بعد عدالت نے اُنھیں دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ مقتول کے والد نے عدالت میں تحریری بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میاں افتخار حیسن اُن کے بیٹے کے قتل میں ملوث ہیں۔

میاں افتخار نے اپنی رہائی کے بعد کہا کہ مقتول نوجوان حبیب اللہ کے والد نے اُنھیں اپنا بزرگ قرار دیا۔

دوسری جانب منگل کو پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے وزیر مال علی امین گنڈا پور نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان کے پولنگ اسٹشین سے بیلٹ بکس اٹھا کر لے گئے تھے، جس پر اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG