رسائی کے لنکس

یہ خودکش بم حملہ ایک معمر خاتون نے اس وقت کیا جب سکیورٹی اہلکاروں نے اسے مرکزی قصبے خار کے اسپتال میں داخل ہونے سے روکا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں ہفتہ کو ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں سکیورٹی اہلکار سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق یہ خودکش بم حملہ ایک معمر خاتون نے اس وقت کیا جب سکیورٹی اہلکاروں نے اسے مرکزی قصبے خار کے اسپتال میں داخل ہونے سے روکا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ حملہ آور کا اصل ہدف کیا تھا۔

باجوڑ ایجنسی میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی خاتون خودکش بمبار نے یہ کارروائی کی ہو۔ دو سال قبل اسی علاقے میں اقوام متحدہ کے امداد تقسیم کرنے والے مرکز کے باہر ایک خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑایا تھا اور اس واقعے میں کم ازکم 40 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی نسبت باجوڑ میں حالات نسبتاً پرامن تصور کیے جاتے ہیں۔ یہاں شدت پسندوں کے خلاف سرکاری فوج کا ایک بھرپور آپریشن بھی کیا چکا ہے۔

لیکن باور کیا جاتا ہے کہ سوات، مالاکنڈ اور دیگر قبائلی علاقوں سے فرار ہونے والے شدت پسند یہاں پھر سے روپوش ہونے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG