رسائی کے لنکس

باجوڑ: انسداد پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور اہلکار بم دھماکے سے زخمی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بعض اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے ایک روزہ قبل علاقے میں پمفلٹس تقسیم کیے تھے جس میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کے خطرناک نتائج کا انتباہ کیا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں بدھ کو انسداد پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو سکیورٹی اہلکار اور ایک ڈرائیور بم حملے میں زخمی ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ تحصیل ماموند کے علاقے ڈبر میں پیش آیا جہاں لیویز اہلکار ایک نجی گاڑی میں جارہے تھے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے انھوں ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا۔

پاکستان کے اس قبائلی علاقے سمیت ملک کے مختلف حصوں میں انسداد پولیو کی ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر اس سے قبل بھی ہلاکت خیز حملے ہوچکے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے ایک روزہ قبل علاقے میں پمفلٹس تقسیم کیے تھے جس میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کے خطرناک نتائج کا انتباہ کیا گیا تھا۔

ایسے حملوں کی وجہ سے انسداد پولیو کی مہم متعدد بار تعطل کا شکار ہوچکی ہے جس کی وجہ سے رواں سال پاکستان میں پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد دو سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جا سکا۔

دوسرے دو ملکوں میں نائیجیریا اور افغانستان شامل ہیں لیکن وہ رواں برس رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد پاکستان کی نسبت کہیں کم ہے۔

XS
SM
MD
LG