رسائی کے لنکس

باجوڑ کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کا دعویٰ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

طالبان جنگجو پسپا ہوتے وقت اپنے 29 ساتھیوں کی لاشیں بھی پیچھے چھوڑ گئے جنہیں حکام نے تحویل میں لے لیا۔

پاکستان میں حکام نے قبائلی علاقے باجوڑ میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والے فوجی آپریشن میں افغان سرحد سے متصل بٹوار گاؤں سے طالبان عسکریت پسندوں کو مار بھگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز میڈیا کو تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر افغانستان کی جانب سے بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں نے بٹوار وادی میں بعض پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا تھا جس کے خلاف دو ہفتے قبل سکیورٹی فورسز نے ایک بھرپور آپریشن شروع کر کے دراندازوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا گیا۔

’’عسکریت پسند پسپا ہوتے وقت اپنے 29 ساتھیوں کی لاشیں بھی پیچھے چھوڑ گئے جنہیں حکام نے تحویل میں لے لیا۔ علاقے کو جنگجوؤں سے اب مکمل طور پر پاک کردیا گیا ہے۔‘‘

فوجی حکام پہلے ہی تصدیق کرچکے ہیں کہ باجوڑ میں شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والی ان جھڑپوں میں طالبان نے 15 فوجیوں کو یرغمال بنانے کے بعد قتل کردیا تھا۔

بعد ازاں جنگجوؤں نے مقتولین کے قلم کیے گئے سروں اور فوجی وردیوں پر مبنی فلم بھی ذرائع ابلاغ کو جاری کی تھی۔

افغانستان سے پاکستان کے مختلف سرحدی علاقوں پر حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسلام آباد نے افغان حکومت اور نیٹو افواج سے باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے انہیں روکنے کے ليے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG