رسائی کے لنکس

بلوچستان: مبینہ نجی جیل چلانے پر رکن صوبائی اسمبلی گرفتار

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بارکھان پولیس کے اعلیٰ عہدیدار عبدالغفور مری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سردار عبدالرحمن کھیتران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے ڈیرہ پر چھاپہ مارا گیا اور انھیں گرفتار کرنے کے لیے علاوہ ان کی ایک مبینہ نجی جیل سے ایک خاتون سمیت پانچ افراد کو بازیاب بھی کروایا۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن سردار عبدالرحمن کھیتران پولیس اہلکاروں پر تشدد، انھیں اغوا کرنے اور ان سے اسلحہ چھیننے کے الزامات میں پولیس کی تحویل میں ہیں، لیکن وہ ان تمام الزامات کو سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے مسترد کر رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق شمالی ضلع بارکھان میں گزشتہ ہفتہ کی شب دیر گئے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے بجلی کے ایک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچایا۔ فائرنگ کی آواز سن کر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن اسمبلی اپنے مسلح محافظوں کے ہمراہ پولیس چوکیوں پر گئے اور مبینہ طور پر وہاں موجود اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، ان سے اسلحہ چھینا اور انھیں زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے۔

بارکھان پولیس کے اعلیٰ عہدیدار عبدالغفور مری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سردار عبدالرحمن کھیتران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے ڈیرہ پر چھاپہ مارا گیا اور انھیں گرفتار کرنے کے لیے علاوہ ان کی ایک مبینہ نجی جیل سے ایک خاتون سمیت پانچ افراد کو بازیاب بھی کروایا گیا۔

’’ان کے بندوں سے کلاشنکوفیں برآمد ہوئیں پھر ان کی ایک نجی جیل تھی اس سے ہم نے پانچ بندے (برآمد) کیے وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ایک خاتون اور ایک مرد بغیر زنخیر کے تھے، جو دو لڑکے وہاں سے برآمد ہوئے ان میں سے ایک رکھنی کا اور دوسرا مظفر گڑھ پنجاب کا تھا، ان کو سردار نے دو سال سے بند کیا ہوا تھا۔‘‘

ضلعی پولیس افسر عبدالغفور مری کے بقول سردار کھیتران کے گھر سے خطرناک اسلحہ بھی برآمد ہوا جس پر ان کے خلاف مزید مقدمات بھی قائم کر دیے گئے۔

تاہم ایک ریسٹ ہاؤس میں پولیس کی زیر حراست سردار عبدالرحمن کھیتران نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کےخلاف یہ کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی اور چھاپے میں ان کی گرفتاری کا پولیس کا بیان بھی سرا سر غلط ہے کیونکہ ان کے بقول انھوں نے خود گرفتاری پیش کی۔

’’یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے بلدیاتی انتخابات میں میرے سات بندے کامیاب ہوئے اور ضلعی ناظم بھی میرا ہی بندہ تھا۔ ۔ ۔ مجھے پتا چلا کہ میرے خلاف ایف آئی آر ہے تو میں قانون پسند شہری ہوں میں آٹھ بجے گرفتاری دے دی، لیکن انھوں نے بعد میں میرے گھر میں کارروائی کی اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔‘‘

پولیس کی طرف سے ان کی نجی جیل سے بازیاب کیے جانے والے افراد کے بارے میں سردار عبدالرحمن کھیتران کا کہنا تھا کہ جب پیر کو یہ لوگ عدالت میں پیش ہوئے تو ان میں ایک نے خود عدالت کو بتایا کہ وہ تو ان کا مہمان تھا اور چھاپے کے وقت وہاں سویا ہوا تھا۔

دیگر افراد کے متعلق بھی ان کا الزام تھا کہ پولیس نے کہیں اور سے یہ لوگ پکڑ کر ان کے خلاف استعمال کیے ہیں۔

بارکھان ضلع کی سرحدیں پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے ملتی ہیں اور یہ علاقہ تیل و گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ یہاں کی بیشتر آبادی کا تعلق کھیتران قبیلے سے ہے جن کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے۔ کھیتران قبیلے کے دو شاخیں ہیں جن میں سے ایک کے سربراہ سردار عبدالرحمن کھیتران ہیں۔
XS
SM
MD
LG