رسائی کے لنکس

قافلے کے رہنما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کو منظر عام پر لا کر اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سے مرد و خواتین اور بچوں پر مشتمل یہ قافلہ 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے روانہ ہوا اور تقریباً 2500 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہوئے چار ماہ بعد ہفتہ کو اسلام آباد پہنچا۔

اس قافلے کی قیادت ’وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز‘ نامی تنظیم کے رہنما قدیر بلوچ کر رہے ہیں۔ پیدل مسافت طے کرنے والوں میں 14 خواتین، چار مرد اور تین بچے بھی شامل ہیں جن کے عزیز رشتے دار کئی برسوں سے لاپتہ ہیں۔

اسلام آباد میں یہ لوگ نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے جہاں سے پیر کو یہ اقوام متحدہ کے دفتر جا کر لاپتہ افراد سے تعلق دستاویزات عہدیداروں کو پیش کریں گے۔

قدیر بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے اور اگر انھوں نےکوئی جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے۔

’’ہم اقوام متحدہ کے پاس جائیں گے، ان (لاپتہ افراد) کو عدالت میں لاؤ آئین اور قانون کے مطابق انھوں نے جو جرم کیا انھیں سزا دو ہمیں منظور ہے، لیکن اس طرح سے جو ہو رہا ہے تو اس سے ہم مشتعل ہوں گے۔‘‘

قافلے میں شامل سمی بلوچ اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کرتے ہوئے چار سال سے لاپتہ اپنے والد کی تلاش کے لیے کوششیں کررہی ہیں۔

’’چار سالوں سے ہم نے حکومت سے اپیل کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بھی گئے وہاں میرے ابو کے چشم دید گواہ بھی پیش ہوئے لیکن پھر بھی میرے ابو کو بازیاب نہیں کیا گیا ابھی ہمیں سننے والا کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘


لاپتا افراد کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے حکومت نے عدالتی کمیشن بھی تشکیل دے رکھا ہے اور ملک کی اعلٰی ترین عدالت بھی اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے۔

بلو چستان سے لاپتا افراد کا معاملہ گزشتہ کئی سالوں سے یوں ہی چلا آرہا ہے اور صوبے کی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے تیار کی گئی فہرست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہاں سے ہزاروں افراد جبری طور پر گمشدہ ہیں۔

لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ انسانی حقوق کی غیر جانبدار تنظیمیں ان اعدادو شمار کو حقیقت سے برعکس قرار دیتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ اصل تعداد اس سے کہیں کم ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG