رسائی کے لنکس

بلوچستان پر مجوزہ کل جماعتی کانفرنس کا خیر مقدم

  • ستار کاکڑ

بلوچستان پر مجوزہ کل جماعتی کانفرنس کا خیر مقدم

بلوچستان پر مجوزہ کل جماعتی کانفرنس کا خیر مقدم

بلوچ قوم پرست سیاست دانوں کی اکثریت نے بلوچستان کے معاملے پر کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کی مسلم لیگ (ن) کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو صوبے کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے ایک اچھا موقع قرار دیا ہے۔

اپوزیشن جماعت کے سربراہ نواز شریف نے کوئٹہ کے حالیہ دورے کے دوران بلوچ قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں سے تفصیلی ملاقاتوں میں بلوچستان کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس کی تجویز دیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبہ اس وقت انتہائی مشکل دور سے گزررہا ہے اور تمام جماعتوں کو مل یبٹھ کر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔

نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما سینیٹر حاصل بزنجو نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے دیگر رہنماؤں پر بھی اس مجوزہ کانفرنس میں شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔

’’کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے بلوچستان کا مسئلہ اجاگر ہوگا اور اس سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت تجویز ہے۔‘‘

لیکن سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ روکے بغیر اور ان واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی بھی تجویز موثر ثابت نہیں ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ بلوچوں کے کچھ مطالبات کو تسلیم کرنا ابھی باقی ہے لیکن ان کے بقول بہت سے مطالبات مانے جا چکے ہیں۔

سینیٹر بزنجو نے الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم پربلوچستان میں عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اور ان کی جماعت ان کوششوں کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی اختر مینگل گروپ کے سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نےکہا کہ اگر مجوزہ کل جماعتی کانفرنس میں ان کی جماعت کو دعوت دی گئی تو وہ اس میں ضرور شرکت کرے گی۔

’’بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے ہم کسی بھی فورم پر جا کر شرکاء کو صوبے کی بحرانی صورت حال کے حقائق کے بارے میں بتائیں گے۔ خاص طور پر ہم انھیں مسخ شدہ لاشوں، لاپتا افراد اور دیگر ایسی ناانصافیوں سے متعلق اپنے موقف اور اعداد وشمار سے آگاہ کیا جاسکے۔‘‘

آغا حسن بلوچ نے کہا کہ اگر کل جماعتی کانفرنس حکومت کی طرف سے منعقد کرائی جائے گی تو وہ اس میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بقول بلوچستان کے موجودہ بحران میں حکومت بھی برابر کی شریک ہے۔

انھوں نے کہا کہ مجوزہ کل جماعتی کانفرنس میں ہم اُن بڑی اقتصادی منصوبوں کو روکنے کا مطالبہ کریں گے جنہیں انھوں نے ’’بلوچ دشمن‘‘ منصوبے قرار دیا۔

صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کی تجویز پر بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی تو حکمران پیپلز پارٹی اس میں شرکت پر غور کرے گی کیونکہ وہ تمام متنازعہ معاملات کے حل کی لیے مشاورت اور بات چیت پر یقین رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG