رسائی کے لنکس

بلوچستان میں مختصر دورانیے کی فلمیں بنانے کے رجحان میں اضافہ


نصیر رند نے اس شعبے میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اور کہتے ہیں کہ نوجوان منفرد اور حقیقی موضوعات پر فلمیں بنا رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں چند سال قبل تک مقامی فلم سازوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی مگر اب نوجوان اس جانب راغب ہو رہے ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ان فلم سازوں نے حال ہی میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تربیتی پروگراموں میں حصہ لیا اور اب وہ خود مختصر دورانیے کی فلمیں بنا رہے ہیں۔

نصیر رند نے اس شعبے میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اور کہتے ہیں کہ نوجوان منفرد اور حقیقی موضوعات پر فلمیں بنا رہے ہیں۔

’’اب بلوچستان میں بھی فلم سازی کو باقاعدہ طور پر سیکھنے کے لیے فلم اسکول کھل چکا ہے، جہاں سے سالانہ30 سے 40 نوجوان گریجویشن کر رہے ہیں، بلوچستان کے نوجوان اکثر اپنی فلمیں اسلام آباد، لاہور کراچی حتی کہ بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے فلمی میلوں میں بھیجتے ہیں ، بلوچستان میں یہ فلم سازوں کے لیےبہت بڑی تبدیلی ہے۔‘‘

پاکستان میں مختصر دورانیہ کی فلموں کے ’پلیٹ فارم‘ 60 سیکنڈ فلم فیسٹول نے اب چھوٹے شہروں کا بھی رخ کیا ہے۔

سلمان احمد 60 سیکنڈ فلم فیسٹول کے منتظم ہیں ان کا ماننا ہے کہ فلم ثقافت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مسائل کی نشاندہی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔

’’ہماری تو یہ کوشش ہے کہ ہمارے فیسٹول کی اسکریننگ پاکستان کے ہر شہر اور ہر گاؤں میں ہو، اور ہماری بات ہر انسان تک پہنچے اور ہر علاقے کا شہری اپنی آواز ایک فلم کے ذریعے ہم تک پہنچائے‘‘۔

’’اگر ہم بلوچستان کے ٹیلنٹ کی بات کریں تو ٹیلنٹ کی کوئی محدود سرحدیں نہیں ہیں جہاں پر انسان ہیں وہیں ٹیلنٹ ہے‘‘

سلمان احمد کہتے ہیں پاکستان میں60 سیکنڈ فلم فیسٹول شروع کر نے کا بنیادی مقصد نوجوان فلم سازوں کو مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مختصر دوانیہ میں ویڈیو فلم کے ذریعے اپنی آواز کو دوسروں تک پہنچائیں۔

XS
SM
MD
LG