رسائی کے لنکس

حکام کے مطابق بازیابی کے لیے قبائلی عمائدین سے مدد لی گئی جنہوں نے اغوا کاروں سے مذاکرات کیے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جمعرات کو اغوا ہونے والے دو اعلیٰ سرکاری افسران کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بازیابی کے لیے قبائلی عمائدین سے مدد لی گئی جنہوں نے اغوا کاروں سے مذاکرات کیے۔

کیچ کے ڈپٹی کمشنر عبدالحمید ابڑو اور اسسٹنٹ کمشنر حسین بلوچ ہفتہ کو بحفاظت تمپ کے علاقے پہنچ گئے۔

دونوں افسران کو جمعرات کو اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا جب وہ ایرانی سرحدی حکام سے ملاقات کے بعد واپس آ رہے تھے۔

جمعہ کو ضلع تربت کے اسسٹنٹ کشمنر نعیم گچکی ان افسران کے بازیابی کے لیے قبائلی عمائدین سے مل کر واپس آرہے تھے کہ مند کے علاقے میں انھیں دیگر آٹھ افراد بشمول سکیورٹی اہلکاروں کے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔

یہ لوگ تاحال اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔

صوبے کے وزیراعلی عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ اغوا کی ان دونوں وارداتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کے ذریعے کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ اسد الرحمن گیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس سے پہلے انتظامی افسران کے اغوا کے واقعات پیش نہیں آئے اور یہ واقعات مشتبہ عسکریت پسندوں کی حکمت عملی میں تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ان کے بقول حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات کا حل تلاش کرے گی اور اس میں ناکامی کی صورت میں سکیورٹی فورسز بھی کارروائی کر سکتی ہیں۔

ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنر کیچ کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔

قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں بعض بلوچ عسکری تنظیمیں صوبے کی خودمختاری اور وسائل میں زیادہ حصے کے لیے مسلح کارروائیاں کرتی آ رہی ہیں۔

مرکزی حکومت نے ایسے عناصر سے مذاکرات کے لیے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ’’ناراض بلوچ قوم پرست رہنماؤں‘‘ سے مذاکرات عمل شروع کرنے کی کوششیں بھی کیں لیکن تاحال اس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
XS
SM
MD
LG