رسائی کے لنکس

بلوچ نوجوانوں کی فوج میں شمولیت بڑھی ہے: جنرل راحیل

  • ستارکاکڑ

پاکستان فوج کے سربراہ نے صوبے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فوج کی معاونت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہر مشکل گھڑی میں صوبے کے عوام کے ساتھ ہے۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ قوانین میں نرمی کر کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی فوج میں شمولیت کو بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

جمعرات کو کوئٹہ میں فوجی تربیت مکمل کرنے والے ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کو دی گئی تربیت آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو گی۔

’’یہ امر ہمارے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ 2010ء سے لے کر دسمبر 2013ء تک 20 ہزار کے قرب بلوچی نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، اس کے علاوہ دو ہزار سے زائد امیدواروں نے پاک فوج کی سرپرستی میں آئی ایس ایس بی کی تربیت بھی حاصل کی جس کی بدولت آج پاکستان آرمی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افسروں اور جوانوں کی نمائندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔‘‘

قدرتی وسائل سے مالا مال لیکن پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان میں تعلیم، صحت، روزگار اور امن عامہ جیسے مسائل سے عوام پریشان حال ہیں لیکن جنرل راحیل شریف نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فوج کی معاونت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہر مشکل گھڑی میں صوبے کے عوام کے ساتھ ہے۔

صوبے کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے فوج کے سربراہ سے درخواست کی کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مزید جوانوں کو بھی فوج میں شامل کریں تاکہ صوبے کے عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے۔

وزیراعلیٰ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ صوبائی حکومت آئین کے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے تمام مسلح قبائلی و عسکری تنظیموں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ علاقے میں امن و خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے ۔

’’جو یہاں مشکلات ہیں چاہے وہ قبائلی ہوں چاہے وہ مسلح تنظیموں کے ہوں یقیناً ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے تناظر میں ہمیں ان تمام قوتوں کو پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ بلوچستان کو پرامن صوبہ بنائیں کیونکہ یہی ترقی کا ضامن ہے۔‘‘

عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت صوبے میں موجود وسائل کو صحیح طور پر بروئے کار لاتے ہوئے بلوچستان کے عوام کی حالت بہتر کرنے اور تعلیم و صحت کے مسائل حل کرنے میں صرف کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

پاکستان کے اس شمال مغربی صوبے کو حالیہ برسوں سے امن وامان کی خراب صورتحال کا بھی سامنا رہا ہے جس میں کالعدم مسلح تنظیموں نے نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا بلکہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے بھی یہاں ماحول میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

بلوچ عسکری تنظیمیں صوبے کے وسائل میں زیادہ حصے اور خودمختاری کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG