رسائی کے لنکس

کوئٹہ: پولیس افسر کی گاڑی پر حملہ ، کم ازکم تین ہلاک

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سپریٹنڈنٹ پولیس ظہور احمد اپنے گاڑی پر سوار جا رہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ان پر جدید خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کی گاڑی پر حملہ آوروں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکاروں سمیت کم ازکم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق پیر کو کوئٹہ کے نواحی علاقے کلی جیو میں سریاب کے سپریٹنڈنٹ پولیس ظہور احمد اپنے گاڑی پر سوار جا رہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ان پر جدید خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

حملے میں ایس پی تو محفوظ رہے لیکن ان کے دو محافظ پولیس اہلکار اور فائرنگ کی زد میں آنے والی ایک خاتون راہگیر ہلاک ہو گئیں۔

زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہے جب کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب رہا جس کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے حملہ آور کا تعلق ضلع مستونگ سے ہے لیکن اس بارے میں مزید تفصیل یا حملے کے محرکات کے بارے میں تاحال تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

پیر کو ہی کوئٹہ کے علاقے جان محمد روڈ پر پولیس کے ایک اہلکار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گیا تھا۔

شورش پسندی کے شکار صوبہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پیر کو ہونے والے واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے لیکن حکام ایسے حملوں کا الزام کالعدم عسکری تنظیموں پر عائد کرتے آئے ہیں۔

صوبائی حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں موثر اقدام کیے گئے ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانا بھی شامل ہے۔

اسی بنا پر حکام ماضی کی نسبت بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG