رسائی کے لنکس

بلوچستان: تشدد کے دو واقعات میں کم ازکم 13 ہلاک

  • ستار کاکڑ

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

یہ بم دھماکا ضلع جعفر آباد کے بس اڈے میں ہوا جہاں سڑک کنارے نصب بارودی مواد میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جمعہ کو تشدد کو دو مختلف واقعات میں کم ازکم 13 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہوگئے۔

مشرقی ضلع جعفر آباد میں جمعہ کی صبح بس اڈے پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم ازکم سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ زخمیوں میں بھی عورتیں اور بچے شامل ہیں جنہیں سندھ کے قریبی اضلاع کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

جعفر آباد کے ڈپٹی کمشنر ظفر بخاری نے وائس آف امریکہ کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بارودی مواد سڑک کنارے کھڑے ایک رکشہ میں نصب تھا جس میں ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔

اس بس اڈے سے کوئٹہ ، سکھر اور لاڑکانہ کے لیے گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے اور دھماکے کے وقت بھی یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

تشدد کا دوسرا واقعہ ضلع قلات میں پیش آیا جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ایک نجی تعمیراتی ادارے کے چار ملازمین کو ہلاک کردیا۔

مقامی حکام کے مطابق کمپنی کے ملازمین مغلزئی کے علاقے میں اپنی گاڑی میں ایندھن بھروا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

فائرنگ سے چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ گولیوں کی زد میں آکر دو راہگیر زخمی ہوئے۔ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پاکستان کے اس صوبے میں حالیہ مہینوں کے دوران ایک بار پھر تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں بم دھماکوں کے علاوہ ہدف بنا کر متعدد لوگوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG