رسائی کے لنکس

بلوچستان: ریل گاڑی پر بم حملہ، کم از کم تین افراد ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ریلو ے حکام کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس جب ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں پہنچی تو نامعلوم افراد کی طرف سے ریلوے لائن کے ساتھ نصب کئے گئے دیسی ساختہ بم میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے زور دار دھماکا کیا گیا۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک مسافر ٹرین پر بم حملے میں تین افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔

ریلو ے حکام کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس جب ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں پہنچی تو نامعلوم افراد کی طرف سے ریلوے لائن کے ساتھ نصب کئے گئے دیسی ساختہ بم میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے زور دار دھماکا کیا گیا۔

ریلوے حکام کے مطابق دھماکے کی زد میں ریل گاڑی کی ایک بوگی آئی جس پر ریلوے کے ملازمین سوار تھے اور مرنے والوں کا تعلق بھی اسی محکمے سے بتایا گیا ہے۔

زخمیوں کو کوئٹہ کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دھماکے سے ریل کی پٹڑی کو بھی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے لیے اس پر ریل گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ لیکن ٹریک کو مرمت کے بعد ریلوے ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔

بم ڈسپوزل حکام کے مطابق دھماکے کے لیے تقریباً چھ کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم یونائیٹڈ بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ ماضی میں بھی جعفر ایکسپریس کو کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے لوگ حملوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب صوبائی حکومت بلوچستان میں امن و امان کی بحالی اور منحرف بلوچ رہنماؤں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کو مزید سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انور ساجد بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں بلوچ تحریکوں کے علاوہ اور بہت سے عوامل کارفرما ہیں جو سنجیدہ کوششوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حکومتی کوششوں سے حالات کسی حد تک بہتر ہو سکتے ہیں لیکن اس کے دیرپا ہونے کی توقع ان کے نزدیک کم ہے۔

"حکومت نے کوئی بڑا سیاسی اقدام نہیں کیا کیونکہ یہ جو تحریک ہے (عسکرت پسند) بولتے ہیں کہ بلوچ قومی تحریک ہے تو جب تک اس کے بنیادی عوامل پر توجہ نہیں دی جائے گی تو اس کے بغیر کوئی راستہ نہیں نکل سکتا۔۔۔زمین پر کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی، لہذا کوئی بہت زیادہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ حالات معمول پر آجائیں۔"

وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت صوبے کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG