رسائی کے لنکس

بلوچستان: سبی بم دھماکے میں کم ازکم چار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پولیس حکام کے مطابق اتوار کی دوپہر سبی شہر کے مرکزی کاروباری علاقے چاکر روڈ پر نا معلوم افراد نے مو ٹر سائیکل میں ایک ٹائم بم نصب کر رکھا تھا۔

پاکستان کے جنوب مغر بی شورش زدہ صوبے بلوچستان کے ایک علاقے میں بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے جن میں سے تین کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اتوار کی دوپہر سبی شہر کے مرکزی کاروباری علاقے چاکر روڈ پر نا معلوم افراد نے مو ٹر سائیکل میں ایک ٹائم بم نصب کر رکھا تھا۔ دھماکے سے چند لمحے قبل ہی پولیس افسران کی گاڑیاں یہاں سے گزری تھیں لیکن حکام کے بقول یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ شدت پسند پولیس افسران کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

سبی پولیس کے سربراہ محمد انور کیتھران نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ " گزشتہ چھ ماہ میں اسی علاقے میں ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے اور شر پسند یہاں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مرکزی گزرگاہ ہے جہاں سے سکیورٹی فورسز کی اور دیگر لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بم حملے سے سکیورٹی فورسز کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی۔

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم اس سے پہلے ہونے والے بیشتر دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

ضلع سبی کی سرحدیں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے اضلاع سے ملتی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں گیس جبکہ کوہلو میں تیل و گیس کے ذخائر کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر دیگر قدرتی معدنیات کے ذخائر بھی ہیں اور ان اضلاع میں گزشتہ کئی سالوں سے سکیورٹی فورسز کو بم دھماکوں بارودی سُرنگوں اور راکٹ حملوں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جبکہ مسافر ٹرینوں اور کوچز پر بھی سبی کے قریب ہلاکت خیز حملے کیے جاتے رہے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے۔

صوبائی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ریاست مخالف عناصر سے نمٹنے کے لیے پولیس کی ایک جدید تربیت یافتہ فورس کو تیار کیا گیا جس کی کارروائیوں کی بدولت صوبے میں اب بڑی حد تک حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور وہاں سے درجنوں لوگ اپنے ہتھیار رکھ کر علاقے میں ریاست کی عملداری کو تسلیم کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔

تاہم کچھ علاقوں میں موجود ریاست مخالف عنا صر کا قلع قمع کرنے کے لیے ایف سی کارروائیاں کر رہی ہے جس میں اب تک درجنوں علیحدگی پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور یہ کارروائیاں علیحدگی پسندوں کے خلاف جاری رہیں گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ ہی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ہمسایہ ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے والے ریاست مخالف عناصر کی پشت پناہی نہ کریں کیونکہ اس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر مرتب ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG